Bharat Express DD Free Dish

Rajya Sabha

مانسون سیشن کے دوران لوک سبھا کی مجموعی طور پر 19 نشستیں ہوئیں۔ ایوان کی معمول کی کارروائی صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک ہوتی ہے، جبکہ دوپہر ایک بجے سے 2 بجے تک کھانے کا وقفہ رہتا ہے۔ مانسون سیشن کے دوران راجیہ سبھا کی نشستوں کی تعداد بھی لوک سبھا کے برابر، یعنی 19 رہی۔ اس حساب سے ایوان میں تقریباً 114 گھنٹے کارروائی ہونی تھی، لیکن راجیہ سبھا میں تقریباً 37 گھنٹے 24 منٹ ہی کام ہوا۔ اس طرح راجیہ سبھا میں تقریباً 76 گھنٹے 36 منٹ کارروائی نہیں ہوسکی۔

پارلیمانی امور کے وزیر نے کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ جب وزیر داخلہ یا حکومت کی جانب سے بیان دیا جائے تو اپوزیشن ہنگامہ کرکے اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔رِجِجو نے کہا، ’’اپوزیشن سے میری صرف یہی درخواست ہے کہ جب بحث اور جواب دیا جارہا ہو تو وہ وزیر داخلہ کے بیان کو پرسکون انداز میں سنیں اور ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالیں۔‘‘میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے طلبہ تحریک کے معاملے پر اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا۔

کانگریس کا یہ وہپ ایسے موقع پرجاری ہوا ہے، جب قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں 'فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026' پیش کیا جا سکتا ہے۔

کرن رجیجو نے یہ بھی واضح کیا کہ چیئرمین نے حکومت کو صرف اپوزیشن کے مطالبے اور جذبات سے آگاہ کیا تھا، کسی وزیر کو ایوان میں آنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اس کے ارکان ایوان میں ہنگامہ کرنے کے بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے اور نئے ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمانی کارروائی میں فعال کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی شاندار تاریخ، ماضی کی اہم بحثوں اور پرانے مباحث سے متعلق مواد کا مطالعہ کریں اور اسے اپنی تیاری کے لیے استعمال کریں۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ تعلیمی نصاب اور عجائب گھروں میں حملہ آور حکمرانوں کو ’حکمران‘ نہیں بلکہ ’حملہ آور‘ کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یادگاروں، شاہراہوں اور دیگر عوامی مقامات سے حملہ آوروں کے نام ہٹا کر ان کی جگہ ملک کے لیے قربانی دینے والے مجاہدینِ آزادی اور قومی ہیروز کے نام رکھے جائیں۔

آج یوسف انصاری ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کی تین دہائیوں کی صحافت، سیاسی بصیرت، سماجی شعور اور قومی مسائل کا تجربہ ایک نئے کردار میں یکجا ہو رہا ہے۔ ان کی نئی سیاسی ذمہ داری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ میڈیا اور سیاست دونوں میدانوں کی باریکیوں سے واقف ہیں۔،

ادھر لوک سبھا میں بھی اسی نوعیت کی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث وہاں بھی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے ضابطہ 267 کے تحت بحث کرانے کے لیے دیے گئے نوٹس پر اصرار کیا، تاہم چیئرمین نے واضح کیا کہ ان نوٹسز کو قبول نہیں کیا گیا ہے۔ اس دوران کئی ارکان ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے احتجاج کرتے نظر آئے،

چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے رول 267 کے تحت بحث کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مطالبے پہلے بھی مسترد کیے جا چکے ہیں۔ ان کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر چیئرمین کے آسن کے قریب پہنچ گئے اور مسلسل نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔

کھڑگے کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار پیدا ہوگا۔ انہوں نے کھڑگے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں منوسمرتی کی اصل مستند نقل پیش کریں۔