Manoj Jha Statement: پٹنہ میں سی ای سی کے خلاف احتجاج پر منوج جھا بولے، ’جمہوریت کے لیے مشکل وقت، اب مسلسل ہوں گے مظاہرے‘
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے پٹنہ میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی ایسے مظاہرے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت جمہوریت کے لیے انتہائی مشکل ہے اور اپوزیشن اس معاملے کو مسلسل اٹھاتی رہے گی۔
SP’s Bold Move in Rajya Sabha Fray: راجیہ سبھا کے میدان میں ایس پی کا بڑا داؤ، رام گوپال کے ساتھ دھن راج ناتھوانی نے کیا نامزدگی داخل
دھن راج ناتھوانی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ میں گروپ صدر ہیں۔ ان کی پروفائل کے مطابق وہ 2010 سے ریلائنس گروپ سے مختلف عہدوں پر وابستہ ہیں اور مالیات، اکاؤنٹنگ، خریداری، انسانی وسائل، کارپوریٹ امور اور سکیورٹی سمیت کئی غیر تکنیکی شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ وہ ریلائنس نیو انرجی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ناتھوانی کھیل انتظامیہ میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
پارلیمنٹ کا مانسون سیشن غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، لوک سبھا میں صرف ایک منٹ ہوئی کارروائی
مانسون سیشن کے دوران لوک سبھا کی مجموعی طور پر 19 نشستیں ہوئیں۔ ایوان کی معمول کی کارروائی صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک ہوتی ہے، جبکہ دوپہر ایک بجے سے 2 بجے تک کھانے کا وقفہ رہتا ہے۔ مانسون سیشن کے دوران راجیہ سبھا کی نشستوں کی تعداد بھی لوک سبھا کے برابر، یعنی 19 رہی۔ اس حساب سے ایوان میں تقریباً 114 گھنٹے کارروائی ہونی تھی، لیکن راجیہ سبھا میں تقریباً 37 گھنٹے 24 منٹ ہی کام ہوا۔ اس طرح راجیہ سبھا میں تقریباً 76 گھنٹے 36 منٹ کارروائی نہیں ہوسکی۔
Home Minister Amit Shah: وزیر داخلہ امت شاہ پہنچے پارلیمنٹ، طلبہ تحریک پر دیں گے جواب
پارلیمانی امور کے وزیر نے کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ جب وزیر داخلہ یا حکومت کی جانب سے بیان دیا جائے تو اپوزیشن ہنگامہ کرکے اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔رِجِجو نے کہا، ’’اپوزیشن سے میری صرف یہی درخواست ہے کہ جب بحث اور جواب دیا جارہا ہو تو وہ وزیر داخلہ کے بیان کو پرسکون انداز میں سنیں اور ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالیں۔‘‘میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے طلبہ تحریک کے معاملے پر اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا۔
کانگریس نے جاری کیا اراکین پارلیمنٹ کے لئے وہپ، پارلیمنٹ میں موجود رہنے کی ہدایت، جانئے کیا ہے تین دنوں کا پلان
کانگریس کا یہ وہپ ایسے موقع پرجاری ہوا ہے، جب قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں 'فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026' پیش کیا جا سکتا ہے۔
Opposition Mallikarjun Kharge: راجیہ سبھا میں کھڑگے اور رجیجو کے درمیان تیکھی بحث، وزیر پارلیمانی امور بولے- وزیر داخلہ صبح سے رات تک پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں
کرن رجیجو نے یہ بھی واضح کیا کہ چیئرمین نے حکومت کو صرف اپوزیشن کے مطالبے اور جذبات سے آگاہ کیا تھا، کسی وزیر کو ایوان میں آنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اس کے ارکان ایوان میں ہنگامہ کرنے کے بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں۔
Prime Minister Narendra Modi: فکر نہ کریں… نئے این ڈی اے ارکان کے ساتھ پی ایم مودی کی بریک فاسٹ میٹنگ اتنی کیو ں تھی اتنی خاص؟
ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے اور نئے ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمانی کارروائی میں فعال کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی شاندار تاریخ، ماضی کی اہم بحثوں اور پرانے مباحث سے متعلق مواد کا مطالعہ کریں اور اسے اپنی تیاری کے لیے استعمال کریں۔
Symbols of Slavery are unacceptable: نئے ہندوستان کو غلامی کی ذہنیت سے آزاد کرنے کی ضرورت، آزاد ہندوستان میں غلامی کی علامتیں ناقابل قبول: ڈاکٹر دنیش شرما
ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ تعلیمی نصاب اور عجائب گھروں میں حملہ آور حکمرانوں کو ’حکمران‘ نہیں بلکہ ’حملہ آور‘ کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یادگاروں، شاہراہوں اور دیگر عوامی مقامات سے حملہ آوروں کے نام ہٹا کر ان کی جگہ ملک کے لیے قربانی دینے والے مجاہدینِ آزادی اور قومی ہیروز کے نام رکھے جائیں۔
Yusuf Ansari’s new era: صحافت سے سیاست تک، یوسف انصاری کی نئی پاری
آج یوسف انصاری ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کی تین دہائیوں کی صحافت، سیاسی بصیرت، سماجی شعور اور قومی مسائل کا تجربہ ایک نئے کردار میں یکجا ہو رہا ہے۔ ان کی نئی سیاسی ذمہ داری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ میڈیا اور سیاست دونوں میدانوں کی باریکیوں سے واقف ہیں۔،
Parliament Monsoon Session: پارلیمنٹ میں ایک بار پھر ہنگامہ ، راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی
ادھر لوک سبھا میں بھی اسی نوعیت کی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث وہاں بھی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے ضابطہ 267 کے تحت بحث کرانے کے لیے دیے گئے نوٹس پر اصرار کیا، تاہم چیئرمین نے واضح کیا کہ ان نوٹسز کو قبول نہیں کیا گیا ہے۔ اس دوران کئی ارکان ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے احتجاج کرتے نظر آئے،





