Bharat Express DD Free Dish

Rajya Sabha

چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے رول 267 کے تحت بحث کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مطالبے پہلے بھی مسترد کیے جا چکے ہیں۔ ان کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر چیئرمین کے آسن کے قریب پہنچ گئے اور مسلسل نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔

کھڑگے کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار پیدا ہوگا۔ انہوں نے کھڑگے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں منوسمرتی کی اصل مستند نقل پیش کریں۔

پیپرلیک مخالف قانون سازی پربحث کے دوران راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ جولوگ کاغذات چوری کرتے ہیں وہ بھاگ رہے ہیں، جب کہ محنت کرنے والوں کو پیٹا جا رہا ہے۔ بل میں نئی ​​دفعات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ نئے بل میں صرف اعدادوشمارہیں اورانہیں تبدیل کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

ایوان کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث ہو سکتی ہے۔

آج اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی، شرد پوار اور سپریا سولے کی مسکراتی ہوئی تصاویر سامنے آنے کے بعد سیاسی قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندی (پریسیمن) بل پر حکومت کو این سی پی (ایس پی) کے آٹھ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہو سکتی ہے،

مانسون سیشن کے دوسرے دن بھی پارلیمنٹ میں خوب ہنگامہ ہوا۔ پیپرلیک پر بحث کا مطالبہ اور طلبا پرہوئے لاٹھی چارج سے متعلق اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں میں حکومت کو گھیرا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے نے مائیک بند کرنے کا الزام لگایا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیر کے روز راجیہ سبھا میں وندے ماترم بل پیش کریں گے۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد قومی نغمہ وندے ماترم کو وہی قانونی حیثیت اور تحفظ فراہم کرنا ہے جو اس وقت قومی ترانے جن گن من کو حاصل ہے۔

کوئل ملک نے 6 اپریل 2026 کو مغربی بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ انہیں ترنمول کانگریس نے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا تھا، لیکن ان کا اچانک استعفیٰ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل سمیت متعدد سینئر سرکاری اور سکیورٹی حکام بھی موجود تھے۔ حکام کے مطابق امت شاہ نے کیمروں پر مبنی نگرانی کے نظام، جدید سکیورٹی آلات اور سرحدی علاقوں میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔