Bharat Express DD Free Dish

Rajya Sabha

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی) کے رکن ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن کی آواز دبائی جا رہی تھی، ایسا مسلسل ہو رہا تھا، اس لئے اپوزیشن نے فیصلہ کیا کہ جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لئے راجیہ سبھا کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز لائی جائے۔

راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق نوٹس پر کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی اور جے ایم ایم سمیت کچھ دیگراپوزیشن پارٹیوں کے 60 اراکین پارلیمنٹ کے دستخط ہیں۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے جگدیپ دھنکھڑ پرجانبداری کرنے کا الزام لگایا ہے۔

انڈیا الائنس نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دے دیا ہے۔

کانگریس ایم پی نے کہا کہ میں اس کے بارے میں سن کر حیران ہوں۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔ میں کل 12.57 بجے ایوان کے اندر پہنچا۔ ایوان  کی کاروائی دوپہر ایک بجے  روک دی گئی۔ دوپہر 1 سے 1.30 بجے تک میں ایودھیا کے ایم پی اودھیش پرساد کے ساتھ کینٹین میں بیٹھا اور لنچ کیا۔

خبر ہے کہ سیٹ نمبر 222 جو کانگریس کے سینئر رہنمااور سینئر وکیل ابھیشک منو سنگھوی کے نام پر مقرر ہے،اسی سیٹ کے نیچے سے کل راجیہ سبھا کے ملازمین نے صفائی کرتے وقت نوٹ کی گڈی برآمد کی ہے۔

آئل فیلڈز (ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ) ترمیمی بل، 2024 نے پیٹرولیم آپریشنز کو کان کنی کے آپریشنز سے الگ کرنے کی بھی تجویز پیش کی ہے، جس سے اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی توقع ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سید ناصر حسین نے اڈانی معالے پر کہا کہ اس سے پہلے ہنڈنبرگ رپورٹ سب کے سامنے آئی ہے۔ اس میں اسٹاک مارکیٹ منیپولیشن، شیل کمپنیز، اوور انوائسنگ کے سنگین الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ سرکاری ایجنسیز سیبی کا بھی معاملہ اس میں آیا ہے۔

لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے پیر کے روز آل پارٹی میٹنگ بلائی۔ یہ میٹنگ پارلیمنٹ میں کام کاج سے متعلق بلائی گئی تھی۔ میٹنگ میں یہ بھی طے ہوا ہے کہ آئین کے 75 سال مکمل ہونے پر14-13 دسمبرکولوک سبھا میں اور17-16 کوراجیہ سبھا میں بحث ہوگی۔

وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران منعقد کئے گئے جاب میلوں کے دوران 24 لاکھ سے زیادہ امیدواروں کو عارضی طور پر شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے جمعرات کو کہا کہ ملک کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں پچھلے چھ سالوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔