Bharat Express DD Free Dish

Rajya Sabha

جونا اکھاڑہ کے سربراہ آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی اودھیشانند گری نے کہا، ’’2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے ایک خاص تبدیلی آئی ہے۔ لوگ اب ثقافتی موضوعات پر زیادہ

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے الزام لگایا کہ حکومت اس بل کو مسلم خواتین کے مفاد میں بتا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلم طبقے کے خلاف ایک سیاسی ایجنڈا ہے۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ لایا گیا وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی منظور ہوگیا ہے۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی بحث کافی دیرتک چلے گی۔ اب یہ بل قانون بننے کی سمت میں آگے بڑھ چکا ہے۔

وقف ترمیمی بل کو لوک سبھا سے منظوری ملنے کے بعد آج راجیہ سبھا میں پیش کر دیا گیا ہے اور اس پر بحث جاری ہے۔ اس دوران ڈی ایم کے (DMK) کے ممبران پارلیمنٹ نے اس بل کو ’’ڈراکونین‘‘ قرار دیا ہے۔

کرن رجیجو ابتدائی طور پر اس بل کی خاصیت اور جے پی سی کی کارکردگی کی تفصیلات پیش کررہے ہیں ۔اس کے بعد ایوان کے لیڈران اس پر بحث کریں گے اور اپنی اپنی بات رکھیں گے۔ حکمراں جماعت کی طرف سے جے پی نڈا،سدھانشو تریویدی سمیت کئی لیڈران اس پر بات رکھیں گے۔

جو پارٹیاں راجیہ سبھا میں این ڈی اے کے ساتھ ہیں، ان میں اپیندر کشواہا کی راشٹریہ لوک مورچہ سے ایک ایم پی، پتالی مکل کچی، تمل منیلا کانگریس، نیشنل پیپلز پارٹی، رامداس اٹھاولے کی ریپبلکن پارٹی آف انڈیا سے ایک ایک ایم پی اور دو آزاد ایم پی شامل ہیں۔

راجیہ سبھا نے بدھ کو ہندوستان میں غیر ملکیوں کے داخلے اور قیام کو ریگولیٹ کرنے والے امیگریشن اینڈ فارنرز بل کو منظوری دے دی۔

پنکج چودھری نے کہا، ’’حکومت نے پردھان منتری جن دھن یوجنا، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا، اٹل پنشن یوجنا وغیرہ جیسی مالی شمولیت کی اسکیموں پر کارکردگی کا جائزہ لے کر دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں مالی شمولیت کو گہرا کرنے میں RRBs کی طرف سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا ہے۔‘‘

چیئرمین دھنکھر نے کہا کہ اسے ایوان کی کارروائی سے ہٹا دیاجائے۔ انہوں نے ساکیت گوکھلے سے کہا کہ یا تو آپ بیان واپس لیں یا ہم اسے ہٹا دیں گے۔ کرن رجیجو نے کہا کہ ساکیت گوکھلے نے بحث کے دوران ایک بھی مشورہ نہیں دیا، بلکہ ذاتی حملے کئے۔

راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن نے مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو کا نام لیا اور ان سے دستاویز ایوان میں رکھنے کو کہا، لیکن مرکزی وزیر ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اس پر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی غیر حاضری شرمناک ہے۔