Bharat Express DD Free Dish

Rajya Sabha

راجیہ سبھا میں ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ڈپٹی چیئرمین گھنشیام تیواری نے اعلان کیا کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے صحت کے مسائل کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ استعفیٰ آئین کے آرٹیکل 67(a) کے تحت فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑنے اپنے استعفیٰ سے 11 دن پہلے 2027 میں ریٹائرہونے کی بات کہی تھی۔ وہ ہندوستان کے تیسرے نائب صدرہیں، جنہوں نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔

فی الحال دھنکھڑ کے استعفیٰ پر سیاست تیز ہو رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان ان کے استعفے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کا اچانک استعفیٰ اتنا ہی چونکا دینے والا ہے جتنا کہ یہ ناقابل تصور ہے۔

آج21 جولائی 2025 کو دھنکڑ نے صحت کے مسائل کی وجہ سے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو انہوں نے آئین کے آرٹیکل 67(ک) کے تحت دیا۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں انہیں سینے میں درد اور بے چینی کی وجہ سے دہلی کے ایمس میں داخل کیا گیا تھا۔

پی ایم مودی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الگ الگ پوسٹس میں ان کو مبارکباد دیتے ہوئے قوم کی تعمیر میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔

یہ نامزدگیاں پہلے سے نامزد ارکان کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہونے والی نشستوں کے پیش نظر کی گئی ہیں۔صدر مرمو نے ان لوگوں کو آئین کے آرٹیکل 80 (1) (a) کی شق (3) کے ذریعہ انہیں دیئے گئے اختیارات کے تحت راجیہ سبھا کے لئے منتخب کیا ہے۔

صدر جمہوریہ نے چار لوگوں کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان میں سرکاری وکیل اجول دیو راؤ نکم، کیرالہ کے سینئر سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سی سدانندن ماسٹر، ہندوستان کے سابق خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا اور نامور تاریخ دان اور ماہر تعلیم میناکشی جین کے نام شامل ہیں۔

کپل سبل نے کہا: "میں (چیئرمین) سے کئی بار ملا، انہوں نے کبھی دستخط کے بارے میں نہیں پوچھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے ای میل کس ای میل آئی ڈی پر بھیجی۔ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے دستخطوں کے ساتھ تحریک چیئرمین کو پیش کی تھی۔

پنجاب کے لدھیانہ ویسٹ سمیت چار ریاستوں کی پانچ اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج جاری ہیں۔ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے سے شروع  ہوگئی ہے ۔

کئی ادبی ایوارڈز سے سرفراز رقیہ ملک عرف کَوِگنر سلمہ عصری تمل ادب کا ایک بڑا نام ہے۔ ملک کو اپنی نظموں اور ناولوں کے لیے جانا جاتا ہے، جو صنف، شناخت اور سماجی انصاف کے موضوعات سے متعلق ہیں۔ فہرست میں ان کی شمولیت ڈی ایم کے کی ثقافتی نمائندگی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔