Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے عبادت گاہوں کے قانون سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ مدنی نے کہا کہ اس سے بدامنی پھیلانے والوں کو روکا جائے گا۔

مولانا ارشد مدنی نے اس دوران کہا کہ 'اگر یہ ترمیم آتی ہے تو مسلمانوں کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں رہیں گی۔' ارشد مدنی نے کہا کہ 'ملک میں اتنی پرانی مساجد اور عبادت گاہیں ہیں کہ سینکڑوں سال گزرنے کے بعد بھی یہ بتانا مشکل ہے کہ ان کا وقف کون ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کی درخواست چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے خصوصی بینچ کے ذریعہ 12دسمبرکوسماعت کا حکم جاری کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی ہے۔

سپریم کورٹ میں آج سے پلیسیزآف ورشپ ایکٹ 1991 کے قانونی جوازکوچیلنج کرنے والی درخواستوں پرآج سے سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی ہے۔ اس کے لئے چیف جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس پی وی سنجے کماراورجسٹس منموہن پرمشتمل تین ججوں کی بنچ بیٹھ گئی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء راجو رام چندرن اور ورندا گروور اس قانون کے حق میں اپنے دلائل پیش کریں گے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ سنبھل سانحہ لاقانونیت، نا انصافی اورظلم وبربریت کی ایک زندہ تصویرہے، جسے ملک ہی نہیں پوری دنیا کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہ سانحہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یک رخی اور نظریاتی سیاست ملک کوکہاں لے کر آگئی ہے، قانون کے محافظ قاتل بن گئے ہیں، برسوں سے پھیلائی گئی نفرت اب بندوق کی گولیوں تک آگئی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے آندھرا اوربہارکے وزرائے اعلیٰ کوکھلے لفظوں میں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگرانہوں نے اقتدارمیں بنے رہنے کے لئے وقف ترمیمی بل پرمرکزی حکومت کی حمایت کی تومسلمانوں کی پیٹھ میں خنجرگھوپنے جیسا ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا، "مودی جی نے کہا ہے کہ وقف کوئی چیز نہیں ہے، میں بہت حیران ہوا، کل وہ کہیں گے کہ نمازاورزکوٰۃ کی کوئی روایت نہیں ہے۔ ہمیں وقف میں ترمیم کے معاملے پر اعتراض ہے۔ "

ہائی کورٹ میں دفاعی وکلاء سی کے شرما، مجاہد احمد، منیش کمارپانڈے اور نتن تیواری نے ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت پر رہائی کی عرضداشت داخل کی ہے اور دوران سماعت انہوں نے عدالت کو بتایاکہ کہ تفتیشی ایجنسی نے ملزمین کے خلاف متعینہ مدت میں چارج شیٹ داخل نہیں کی اس کے باوجود خصوصی سیشن عدالت نے تفتیشی ایجنسی کو مزید وقت دے دیا تاکہ وہ چارج شیٹ داخل کرسکے جو غیر قانونی ہے۔

بلڈوزر کارروائی پر پابندی کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جج نہیں بن سکتی۔ بلڈوزر ایکشن پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آچکا ہے۔