Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulama-e-Hind

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کے فیصلوں پرر وشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرکارکی جانب سے یک طرفہ کارروائیوں اورمتعدد معاملات میں انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کے باعث متاثرین کے لیے عدالتی ذرائع سے مؤثرقانونی چارہ جوئی کے مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرکسی ایک کمیونٹی کے خلاف یک طرفہ کارروائیاں ہوں اورانہیں انتظامی سطح پرسرپرستی حاصل ہوتویہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدرکسی بھی ایسی حقیقی کوشش کی مخالف نہیں ہے، جس کا مقصد جبر، دھوکہ دہی یا جبری تبدیلیٔ مذہب کو روکنا ہو، لیکن مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پربنایا گیا، کوئی قانون خود اسی آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا، نیز اسے ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف سزا کا بھی ہتھیار نہیں بنایا جاسکتا۔

سروے کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو حالات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طورپر2 بچوں کی دوسالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے اور انہیں فی بچہ دو ہزارروپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ اس کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہونے والے طلبہ کی تعلیم کو دوبارہ معمول پرلانے میں مدد مل سکے۔

پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اورقانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے متولی حضرات کو خاص طورپرذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کوآئینی حدود کے اندررہ کرفیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا موجودہ دورمیں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس اجلاس سے آج فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف جوآوازاٹھی ہے نہ تواسے کوئی طاقت دباسکتی ہے اورنہ ہی کمزور کر سکتی ہے ، ایک دن اس آوازمیں بھی لاکھوں کڑوروں آوازیں شامل ہوں گی اورہم ملک سے فرقہ پرستی اورنفرت کو مٹانے میں کامیاب رہیں گے۔ انہوں نے ایک بارپھروضاحت کی کہ جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی تنظیم ہے اورسیاست سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہم نہ توالیکشن لڑتے ہیں اورنہ کسی کو لڑاتے ہیں بلکہ ہم ملک میں اتحاد اوریکجہتی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، ہمارا مقصد برادران وطن کو یہ باورکرانا ہے کہ نفرت تباہی اوربربادی ہی لاتی ہے، جس کا نظارہ ہم آج اپنی آنکھوں سے کررہے ہیں۔

یہ احتجاج اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ریاستی حکومت نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے 130 سال سے زائد قدیم بانکڑا مسجد کو ہوائی اڈے کے احاطے سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعیۃ علماء ہند (مغربی بنگال) کے صدر صدیق اللہ چودھری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’آج بھارت کے لیے یوم سیاہ ہے۔‘‘

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

مولانا مفتی محمد احمد خان نے کہا کہ مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی ادارے مسلمانوں کی عبادت اور عقیدے سے وابستہ ہیں، اس لیے ان کے انتظام میں غیر مسلم افراد کی شمولیت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آج اگر انہیں بورڈ میں جگہ دی گئی تو کل وہ مذہبی معاملات میں بھی مداخلت کرنا شروع کر دیں گے۔

گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیردوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمہ کی یومیہ کی بنیاد پرحتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج سنایا گیا، دورکنی بینچ نے ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پربھی سماعت کی۔ کل 49 ملزمین میں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علماء احمد آباد(گجرات) کے تعاون سے39 ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ محض ووٹرلسٹوں کی نظر ثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اورآئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرہرشہری کوبارباراپنی شہریت اورحقِ رائے دہی ثابت کرنے پرمجبور کیا جائے تویہ صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اورشہری آزادیوں کا مسئلہ ہے۔