Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulama-e-Hind

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بلاشبہ فرقہ پرستی اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنے سے ملک کے حالات انتہائی مایوس کن اور خطرناک ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، امید افزا بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے، ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں۔ بلکہ اپنے کردار وعمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کی پیروی پرعدالت نے پولس محکمہ کوسخت پھٹکار لگائی ہے۔ عیدالاضحی سے قبل اہل خانہ کے لیے بڑی خوشی ملی ہے۔ والد سیفی محمد نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے دوروزہ اجلاس میں صدرمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان نہ جھکا ہے اورنہ کبھی جھکے گا۔ پہلے مسلمان ہی فرقہ پرستوں کے نشانہ پرتھا اب اسلام بھی نشانہ پرہے۔ موجودہ وقت میں مسلمان نہیں، دستورہنداورجمہوریت خطرے میں ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ابھی پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہوئے، بطورخاص مغربی بنگال اور آسام میں کھلے عام انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اشتعال انگیزیاں کی گئیں اور مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں بھی دی گئیں، الیکشن جیت لینے کے بعد بھی دھمکیوں کا یہ مذموم سلسلہ جاری ہے۔

جمہوریت کی جگہ ہندو راشٹر کے مطالبے پر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سخت بیان دیا ہے۔ انہوں نے نیپال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک مذہب کو قوم پر مسلط کرنے سے ترقی ممکن نہیں ہوتی۔

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے امت شاہ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی مسلم ریزرویشن ختم نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے ریاست میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت قانون لانے اور اس کے لیے جسٹس سدرشن ریڈی کی مدد لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ پوری خبر پڑھیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی  نے کہا کہ بے گناہوں کو انصاف تومل گیا، مگرمتاثرین کی زندگیاں برباد کرنے والوں کوکیفرکردارتک پہنچائے بغیرانصاف ادھورا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاطی افسران کے خلاف بھی جمعیۃ علماء ہند عدالت میں مقدمہ لڑ رہی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی سوال کیا کہ بہار کے نالندہ میں ایک غریب پھیری والے اطہر حسین کو نام اور مذہب پوچھ کر مار ڈالاگیا تواب ملک کامتعصب میڈیا چپ کیوں ہے؟ کیا اس لئے کہ مرنے والا مسلمان ہے، یہ دوہراکردارکیوں؟

جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ جہاد کی مخالفت کرنے والے لوگ ملک کے غدارہیں، ملک کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں اور وہ دہشت گردی پھیلانا چاہتے ہیں۔ وہ ملک سے غداری کا کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے دشمن ملک جیسے پاکستان اور دیگر ممالک کے ایجنڈے کو پورا کررہے ہیں۔

اسلامی مذہبی رہنما مولانا محمود مدنی ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ آج انہوں نے بھوپال میں منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس میں جہاد کے تصور کو ایک مقدس فریضہ قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب داری پر  بھی سنگین سوالات اٹھائے۔

سکھ بھائیوں نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم سفید وکالی دھاری والے جھنڈے دیکھتے ہیں توسمجھ جاتے ہیں کہ یہ قافلہ ہماری مدد کے لیے آیا ہے۔