Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulama-e-Hind

اسلامی مذہبی رہنما مولانا محمود مدنی ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ آج انہوں نے بھوپال میں منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس میں جہاد کے تصور کو ایک مقدس فریضہ قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب داری پر  بھی سنگین سوالات اٹھائے۔

سکھ بھائیوں نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم سفید وکالی دھاری والے جھنڈے دیکھتے ہیں توسمجھ جاتے ہیں کہ یہ قافلہ ہماری مدد کے لیے آیا ہے۔

’آزادی کی آواز – ہندوستان کے ورثے کا جشن ‘ کے عنوان سے عظیم الشان  اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند نے مسلمانوں  کو تعلیم، تنظیم اور تجارت پر زور دینے کی تلقین کی او رکہا کہ ہمیں اچھے کردار سے نفرت کو مٹانا ہوگا ۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کو درست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظر کو بھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔

مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ یہ فلم نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے معاملے پر مرکوز ہے بلکہ اس میں ہندوستانی مسلمانوں کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمین کو فوراً جیل سے رہا کیا جائے اگر وہ کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو یعنی کہ عدالت نے سال 2006 سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ملزمین کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے۔

بی جے پی لیڈر گورو بھاٹیہ نے عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملہ کا ذکر کیا اور جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔

جمعیۃعلماء ہند صدرمولانا ارشد مدنی نے آج کی عدالتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توحتمی فیصلے کے منتظر تھے، لیکن پورے دن تک چلی بحث کے بعد اس کا جو ماحصل سامنے آیا ہے، وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قابل اعتراض مناظرکوہٹائے جانے کے بعد بھی اس فلم میں اس طرح کا مواد اب بھی موجود ہے، جوہمارے معاشرے میں منافرت کا زہرگھول سکتا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سخت تبصرہ کیا ہے۔ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظر ہٹا دیئے گئے۔ سینسر بورڈ کے وکیل نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اطمینان کا اظہار کیا۔

 جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعدمدنی نے کہا کہ ہمیں سنجیدگی کے ساتھ اس عظیم حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ مکتب کوئی معمولی ادارہ نہیں، بلکہ اسلام کی بنیادوں کی حفاظت کا محاذ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بچوں کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہوتی ہےاور دین کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔