Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulama-e-Hind

سپریم کورٹ میں آج سے پلیسیزآف ورشپ ایکٹ 1991 کے قانونی جوازکوچیلنج کرنے والی درخواستوں پرآج سے سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی ہے۔ اس کے لئے چیف جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس پی وی سنجے کماراورجسٹس منموہن پرمشتمل تین ججوں کی بنچ بیٹھ گئی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ انسانیت کی خدمت میں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ جس طرح ان کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھلے تھے اسی طرح وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے بھی کھلے تھے اور بلا تفریق دلوں کو گرماتے اور ذہنوں کو اپنی محبت سے تازہ کرتے رہے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء راجو رام چندرن اور ورندا گروور اس قانون کے حق میں اپنے دلائل پیش کریں گے۔

جمعیت علماء ہند کا کہنا ہے کہ مولانا محمود مدنی سنبھل کے حالات سے بہت غمزدہ ہیں، اس لئے چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا از خود ان حالات کا نوٹس لیں۔ جمعیت آئین کے محافظ چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس آئی ہے اورامید کرتی ہے کہ وہ انصاف کے علمبردار کے طورپراس درخواست پرفوری غورکریں گے۔

مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں وفد نے سنبھل کی سرکردہ شخصیات سے ملاقات کی اور پولیس فائرنگ کے حالیہ واقعات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے آندھرا اوربہارکے وزرائے اعلیٰ کوکھلے لفظوں میں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگرانہوں نے اقتدارمیں بنے رہنے کے لئے وقف ترمیمی بل پرمرکزی حکومت کی حمایت کی تومسلمانوں کی پیٹھ میں خنجرگھوپنے جیسا ہوگا۔

ہائی کورٹ میں دفاعی وکلاء سی کے شرما، مجاہد احمد، منیش کمارپانڈے اور نتن تیواری نے ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت پر رہائی کی عرضداشت داخل کی ہے اور دوران سماعت انہوں نے عدالت کو بتایاکہ کہ تفتیشی ایجنسی نے ملزمین کے خلاف متعینہ مدت میں چارج شیٹ داخل نہیں کی اس کے باوجود خصوصی سیشن عدالت نے تفتیشی ایجنسی کو مزید وقت دے دیا تاکہ وہ چارج شیٹ داخل کرسکے جو غیر قانونی ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے بزمِ صحافت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے اپنے پرخلوص محبت کی بنیاد پر بلایا، اس کے لیے میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ صورتحال یہ ہے کہ مسلمان ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور ہم ہمیشہ سے اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمان ہندوستان کو اپنا ملک نہیں مانتے۔

جمعیۃ علماء ہند جدید تعلیم کوفروغ دینے کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی اوایس) سے منسلک جمعیۃ اسٹڈی سینٹرچلا رہی ہے، جہاں 15 ہزار سے زائد طلبہ وطالبات کوروایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید مضامین کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا استقبال کیا اوریہ امید ظاہرکی کہ حتمی فیصلہ بھی مدارس کے حق میں آئے گا اورآئین کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی کرنے والی طاقتوں کومنہ کی کھانی پڑے گی۔