Places of Worship Act 1991 Case: عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون سے متعلق اسٹے برقرار، معاملہ تین رکنی بینچ کے سپرد، اپریل میں ہوگی آئندہ سماعت
چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے اہم فیصلہ صادرکرتے ہوئے پچھلی سماعت پردیئے گئے اسٹے میں توسیع کردی، اس کے ساتھ ہی عدالت نے تازہ عرضداشتوں پرنوٹس جاری کرنے کی بجائے انہیں بطورمداخلت کاردرخواست داخل کرنے کی ہدایت دی۔
یکساں سول کوڈ کا نفاذ کسی بھی صوبائی حکومت کے دائرہ اختیارمیں نہیں، اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کے وکیل کپل سبل نے دی بڑی دلیل
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایک سیکولر آئین کے موجود رہتے ہوئے جس طرح یہ قانون لایا گیا وہ جانبداری، امتیاز اور تعصب کا مظہر ہے ہی نہیں آئین کی بعض دفعات کا حوالہ دے کرجس طرح قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی شناخت کو مجروح اورختم کرنے کی غرض سے ہی یہ قانون وضع کیا گیا ہے۔
UCC in Uttarakhand: اتراکھنڈ میں UCC کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا بڑا فیصلہ، کپل سبل کی رہنمائی میں ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی
جنوری 2025 میں اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے آج نینیتال ہائی کورٹ میں اس قانون کے خلاف عرضی داخل کی اور اتراکھنڈ کے چیف جسٹس کے سامنے اس کا ذکر کیا۔
سپریم کورٹ کے ذریعہ عبادت گاہوں کے خلاف نئے مقدمات اورسروے پرروک لگانے کا مولانا محمود مدنی نے کیا خیرمقدم، جمعیۃ علماء ہند کی لڑائی جاری رکھنے کا اعلان
مولانا محمودمدنی نے کہا کہ مسجد-مندرتلاش کرنے والے اس ملک کی یک جہتی اوراتحاد کے دشمن ہیں۔ جبکہ ہمارا مقصد اس ملک میں امن و امان کا تحفظ کرنا ہے۔
Supreme Court: ’فرقہ واریت اور بدامنی پھیلانے والوں پر پایا جائے گا قابو‘، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مولانا ارشد مدنی کا بیان
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے عبادت گاہوں کے قانون سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ مدنی نے کہا کہ اس سے بدامنی پھیلانے والوں کو روکا جائے گا۔
Supreme Court on Places of Worship Act 1991: پلیسیزآف ورشپ ایکٹ سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، اگلی تاریخ تک مسجد-مندر سے متعلق تمام مقدموں پرروک، سروے پر بھی اسٹے، نچلی عدالتیں نہیں دے سکیں گی حکم
سپریم کورٹ میں جمعرات (12 دسمبر، 2024) کو پلیسیزآف ورشپ ایکٹ پر سماعت ہورہی ہے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ وہ اس معاملے میں سماعت کریں گے۔
ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس اور فکرانگیز، جمعیۃ علماء کشن گنج کے اجلاس عام میں مولانا محمود مدنی کا بڑا بیان
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے حکومتوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی گئی تو ہم آپ سے آئین کی حد میں آخر دم تک لڑتے رہیں گے۔
عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون پر سپریم کورٹ کی خصوصی بینچ کرے گی سماعت، مولانا ارشد مدنی نے کہی یہ بڑی بات
جمعیۃعلماء ہند کی درخواست چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے خصوصی بینچ کے ذریعہ 12دسمبرکوسماعت کا حکم جاری کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی ہے۔
Places of Worship Act 1991: پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کے قانونی جوازپرسپریم کورٹ میں ہوگی سماعت، جمعیۃ علماء ہند نے داخل کی ہے عرضی
سپریم کورٹ میں آج سے پلیسیزآف ورشپ ایکٹ 1991 کے قانونی جوازکوچیلنج کرنے والی درخواستوں پرآج سے سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی ہے۔ اس کے لئے چیف جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس پی وی سنجے کماراورجسٹس منموہن پرمشتمل تین ججوں کی بنچ بیٹھ گئی ہے۔
Ajmer Sharif Dargah Row:اجمیر شریف پر سوال اٹھانا ہندوستان کے دل پر حملہ کرنے جیسا ہے،حکومت مساجد کے حوالے سے جاری انارکی کو فوراً روکے:مولانا محمود مدنی
مولانا مدنی نے کہا کہ انسانیت کی خدمت میں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ جس طرح ان کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھلے تھے اسی طرح وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے بھی کھلے تھے اور بلا تفریق دلوں کو گرماتے اور ذہنوں کو اپنی محبت سے تازہ کرتے رہے ہیں۔





