Waqf Amendment Act 2025: وقف قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پرسپریم کورٹ میں آج پھر ہوگی سماعت، مسلم فریق کی دلیلیں مکمل، مودی حکومت کو دینا ہے جواب
وقف ترمیمی قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس آگسٹن جارج مسیح کی بینچ سماعت کرے گی اور بھارت سرکار کی طرف سے بھی عدالت میں اپنا موقف رکھا جائے گا۔
Waqf Amendment Act 2025: وقف ترمیمی ایکٹ 2025 آئین مخالف اور اکثریتی تسلط کی علامت، جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے وقف ایکٹ کے خلاف منظور کی تجویز، آخر تک جد وجہد کا اعلان
مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کو فوری طور واپس لے اور پر امن مظاہرے کو روکنےسے باز آئے ، مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف کارروائی ،یکساں سول کوڈ، بلڈوزر کارروائی کو آئین مخالف عمل قرار دیا، فلسطین کے معاملے میں بھارت سرکار سے مداخلت کی گزارش۔ جمعیۃ کی رواں ممبر سازی کی مدت میں بھی توسیع
Places of Worship Act 1991 Case: عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون سے متعلق اسٹے برقرار، معاملہ تین رکنی بینچ کے سپرد، اپریل میں ہوگی آئندہ سماعت
چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے اہم فیصلہ صادرکرتے ہوئے پچھلی سماعت پردیئے گئے اسٹے میں توسیع کردی، اس کے ساتھ ہی عدالت نے تازہ عرضداشتوں پرنوٹس جاری کرنے کی بجائے انہیں بطورمداخلت کاردرخواست داخل کرنے کی ہدایت دی۔
یکساں سول کوڈ کا نفاذ کسی بھی صوبائی حکومت کے دائرہ اختیارمیں نہیں، اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کے وکیل کپل سبل نے دی بڑی دلیل
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایک سیکولر آئین کے موجود رہتے ہوئے جس طرح یہ قانون لایا گیا وہ جانبداری، امتیاز اور تعصب کا مظہر ہے ہی نہیں آئین کی بعض دفعات کا حوالہ دے کرجس طرح قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی شناخت کو مجروح اورختم کرنے کی غرض سے ہی یہ قانون وضع کیا گیا ہے۔
UCC in Uttarakhand: اتراکھنڈ میں UCC کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کا بڑا فیصلہ، کپل سبل کی رہنمائی میں ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی
جنوری 2025 میں اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے آج نینیتال ہائی کورٹ میں اس قانون کے خلاف عرضی داخل کی اور اتراکھنڈ کے چیف جسٹس کے سامنے اس کا ذکر کیا۔
سپریم کورٹ کے ذریعہ عبادت گاہوں کے خلاف نئے مقدمات اورسروے پرروک لگانے کا مولانا محمود مدنی نے کیا خیرمقدم، جمعیۃ علماء ہند کی لڑائی جاری رکھنے کا اعلان
مولانا محمودمدنی نے کہا کہ مسجد-مندرتلاش کرنے والے اس ملک کی یک جہتی اوراتحاد کے دشمن ہیں۔ جبکہ ہمارا مقصد اس ملک میں امن و امان کا تحفظ کرنا ہے۔
Supreme Court: ’فرقہ واریت اور بدامنی پھیلانے والوں پر پایا جائے گا قابو‘، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مولانا ارشد مدنی کا بیان
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے عبادت گاہوں کے قانون سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ مدنی نے کہا کہ اس سے بدامنی پھیلانے والوں کو روکا جائے گا۔
Supreme Court on Places of Worship Act 1991: پلیسیزآف ورشپ ایکٹ سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، اگلی تاریخ تک مسجد-مندر سے متعلق تمام مقدموں پرروک، سروے پر بھی اسٹے، نچلی عدالتیں نہیں دے سکیں گی حکم
سپریم کورٹ میں جمعرات (12 دسمبر، 2024) کو پلیسیزآف ورشپ ایکٹ پر سماعت ہورہی ہے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ وہ اس معاملے میں سماعت کریں گے۔
ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس اور فکرانگیز، جمعیۃ علماء کشن گنج کے اجلاس عام میں مولانا محمود مدنی کا بڑا بیان
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے حکومتوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی گئی تو ہم آپ سے آئین کی حد میں آخر دم تک لڑتے رہیں گے۔
عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون پر سپریم کورٹ کی خصوصی بینچ کرے گی سماعت، مولانا ارشد مدنی نے کہی یہ بڑی بات
جمعیۃعلماء ہند کی درخواست چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے خصوصی بینچ کے ذریعہ 12دسمبرکوسماعت کا حکم جاری کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی ہے۔





