Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha

امت شاہ نے واضح کیا کہ بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر اس کی خوبیوں یا خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، بلکہ صرف تکنیکی اعتراضات ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام اعتراضات کا تفصیلی اور ’’مضبوط جواب‘‘ بحث کے دوران دے گی۔

حکومت کی جانب سے خواتین ریزرویشن اور نشستوں میں اضافے کے لیے تین اہم بل پیش کردیے گئے ہیں۔ ان بلوں کا مقصد 2023 میں منظور شدہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کو مکمل طور پر نافذ کرنا اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں حد بندی بل پیش کیے جانے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا، جہاں اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت اعتراضات ظاہر کیے۔

آج خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیم اور حدبندی بل پیش کریں گے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹریز سے متعلق ترمیمی بل ایوان میں لائیں گے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔

مرکزی حکومت نے لوک سبھا کی سیٹوں کوبڑھا کر 850 کرنے کی تجویزپیش کی ہے۔ اس میں ریاست کے لئے 815 سیٹوں اورمرکزکے زیرانتظام ریاستوں کے لئے 35 سیٹیں رکھی گئی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 82 اور170 ہرمردم شماری کے بعد لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کرنے کا التزام کرتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ حکومت 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے سکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ بازآبادکاری کی پالیسی پر بھی زور دیا ہے۔

چیئرمین نے سبکدوش ہونے والے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کو اختتام نہیں بلکہ نئی ذمہ داریوں کے آغاز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اراکین تازہ توانائی اور نئے خیالات کے ساتھ اس ادارے کی روایت کو آگے بڑھائیں گے،

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جو ہر دو سال بعد ایوان کو جذباتی لمحات میں لے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں روزمرہ کے امور پر بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن جب اراکین کی رخصتی کا وقت آتا ہے تو تمام سیاسی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ایک مشترکہ جذبہ ابھر کر سامنے آتا ہے، جو احترام اور قدردانی پر مبنی ہوتا ہے۔

سیتارمن نے بتایا کہ کووڈ وبا کے بعد مرکزی حکومت کے اقدامات نے ملک کی معیشت کو مضبوط کیا ہے اور عالمی جھٹکوں کے باوجود مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن اراکین کو بار بار پرسکون ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوالیہ وقفہ ایوان کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران ارکان اپنے علاقوں کے مسائل اور قومی معاملات کو اٹھاتے ہیں،

امت شاہ نے اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا اقدام پارلیمانی ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کے بعد پہلی بار لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف ایسی قرارداد پیش کی گئی ہے، جو پارلیمانی سیاست کے لیے افسوسناک ہے۔