’’یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے…‘‘، مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں بچوں کی اموات پر راہل گاندھی کا بیان
بیماریوں کی درست وجہ ابھی تک حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے ملیریا جیسے بخار اور جلد کے انفیکشن کے ساتھ ساتھ غذائی قلت سمیت مختلف قسم کے انفیکشن سے وابستہ علامات کی اطلاع دی ہے۔
Congress MP Rahul Gandhi: پونے میں راہل گاندھی کے پروگرام سے قبل طلبہ میں جھڑپ، سیاسی ماحول کشیدہ
راہل گاندھی کا ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام 22 اگست کو پونے میں منعقد ہونا ہے۔ پروگرام کے سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی کئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ایسے وقت میں پروگرام سے محض ایک روز قبل یونیورسٹی کیمپس میں جھڑپ کا واقعہ پیش آنے سے سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ طلبہ تنظیموں کے درمیان کسی تنازع کے بعد صورتحال نے کشیدہ رخ اختیار کیا۔
Big Relief For Ghazipur MP Afzal Ansari: غازی پور سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کو ملی بڑی راحت، جانئے کیا ہے اصل معاملہ
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ غازی پور کی عدالت نے تقریباً ایک سال قبل ان کی جائیدادیں آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کے مطابق، عدالت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر دیا کہ جن الزامات کے تحت ان کی زمین اور دیگر جائیدادیں ضبط کی گئی تھیں، ان الزامات کے معاملے میں بعد میں انہیں راحت مل چکی ہے۔
Notice to Rahul Gandhi: لوک سبھا سکریٹریٹ نے وزیرداخلہ امت شاہ کے خلاف ’غیر پارلیمانی‘ تبصروں پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے مانگا جواب
سنجے جیسوال نے 29 جولائی کو دیے گئے اپنے علیحدہ خط میں راہل گاندھی کی جانب سے مبینہ طور پر غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کا نوٹس لینے اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے راہل گاندھی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ وہ 28 اگست تک اس معاملے میں اپنا جواب یا تبصرہ پیش کریں تاکہ اسے لوک سبھا اسپیکر کے غور کے لیے پیش کیا جاسکے۔
Trinamool Congress: ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ کی بڑھ سکتی ہے مشکل، ممتا بنرجی نے لیا بڑا فیصلہ
سپریم کورٹ نے اپنے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ نااہلی کی عرضیوں پر فیصلہ کرتے وقت اسپیکر عدالتی یا ٹریبونل جیسے فرائض انجام دیتے ہیں اور ان کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نااہلی سے متعلق عرضیوں پر ابتدائی فیصلہ کرنے کے لیے اسپیکر ہی متعلقہ آئینی اتھارٹی ہیں، تاہم انہیں غیر جانب دار،
Leader of the Opposition in the Lok Sabha, Rahul Gandhi: راہل گاندھی کا مودی حکومت اور آر ایس ایس پر شدید حملہ، امت شاہ پر بھی اٹھایا سوال ، بی جے پی برہم
وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ پر بھی کئی براہ راست حملے کیے گئے۔کانگریس لیڈر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ میں مبینہ طور پر 20 دن تک عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے حکومت کی کارکردگی اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن کے کردار کو اہم قرار دیا۔
پارلیمنٹ کا مانسون سیشن غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، لوک سبھا میں صرف ایک منٹ ہوئی کارروائی
مانسون سیشن کے دوران لوک سبھا کی مجموعی طور پر 19 نشستیں ہوئیں۔ ایوان کی معمول کی کارروائی صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک ہوتی ہے، جبکہ دوپہر ایک بجے سے 2 بجے تک کھانے کا وقفہ رہتا ہے۔ مانسون سیشن کے دوران راجیہ سبھا کی نشستوں کی تعداد بھی لوک سبھا کے برابر، یعنی 19 رہی۔ اس حساب سے ایوان میں تقریباً 114 گھنٹے کارروائی ہونی تھی، لیکن راجیہ سبھا میں تقریباً 37 گھنٹے 24 منٹ ہی کام ہوا۔ اس طرح راجیہ سبھا میں تقریباً 76 گھنٹے 36 منٹ کارروائی نہیں ہوسکی۔
Home Minister Amit Shah: وزیر داخلہ امت شاہ پہنچے پارلیمنٹ، طلبہ تحریک پر دیں گے جواب
پارلیمانی امور کے وزیر نے کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ جب وزیر داخلہ یا حکومت کی جانب سے بیان دیا جائے تو اپوزیشن ہنگامہ کرکے اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔رِجِجو نے کہا، ’’اپوزیشن سے میری صرف یہی درخواست ہے کہ جب بحث اور جواب دیا جارہا ہو تو وہ وزیر داخلہ کے بیان کو پرسکون انداز میں سنیں اور ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالیں۔‘‘میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے طلبہ تحریک کے معاملے پر اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا۔
Indian Youth Congress: راہل گاندھی نے انڈین یوتھ کانگریس کے یومِ تاسیس پر ارکان کو دی مبارکباد، نوجوانوں کے حقوق کی جدوجہد کا کیا ذکر
انڈین نیشنل کانگریس کی نوجوان شاخ انڈین یوتھ کانگریس کا قیام 9 اگست 1960 کو عمل میں آیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ کانگریس پارٹی کا حصہ تھی، تاہم بعد میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اسے پارٹی کے ایک فرنٹل آرگنائزیشن یعنی ذیلی تنظیم کے طور پر قائم کیا۔تنظیم کے مطابق اس وقت اس کے 2 کروڑ سے زیادہ رجسٹرڈ ارکان ہیں۔
Yusuf Ansari’s new era: صحافت سے سیاست تک، یوسف انصاری کی نئی پاری
آج یوسف انصاری ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کی تین دہائیوں کی صحافت، سیاسی بصیرت، سماجی شعور اور قومی مسائل کا تجربہ ایک نئے کردار میں یکجا ہو رہا ہے۔ ان کی نئی سیاسی ذمہ داری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ میڈیا اور سیاست دونوں میدانوں کی باریکیوں سے واقف ہیں۔،





