Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha

ایوان کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث ہو سکتی ہے۔

کاکولی گھوش دستیدار نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بھی کلیان بنرجی کو ایوان سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مبینہ طور پر بار بار زبانی بدسلوکی، خواتین مخالف تبصروں اور نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔

سیاسی حلقوں میں اس خط کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ڈی ایم کے اور کانگریس کئی برسوں سے قومی سیاست اور تمل ناڈو کی انتخابی حکمت عملی میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں مختلف مواقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرتی رہی ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے اختلافات نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔

کانگریس لیڈر راگنی نائک نے الزام لگایا کہ حکومت حدبندی کو ایک ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس کے ذریعے ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے خطاب کو کانگریس کے خلاف سازش بھی کہا۔

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔

پرینکاگاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین ریزرویشن ملک کی خواتین کا حق ہے اور ایک دن یہ ضرور حقیقت بنے گا۔انہوں نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری اور اس پر مبنی حد بندی سے جوڑ کر نریندر مودی کی خواتین کے مسیحا بننے کی کوشش آج ناکام ہو گئی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی دادی نے انہیں خوف کا مقابلہ کرنا سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں خواتین سے بہت کچھ سیکھتا ہے، چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو یا کوئی اور کردار۔ انہوں نے کہا کہ "سچائی کڑوی ہوتی ہے،

وزیراعظم  مودی نے گزشتہ 25 سے 30 برسوں میں پنچایت سطح پر ابھرنے والی خواتین قیادت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین اب صرف نمائندہ نہیں بلکہ بااثر لیڈر بن چکی ہیں۔ پہلے خواتین سمجھتی تھیں مگر بولتی نہیں تھیں،

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ بھی ویسا ہی اہم لمحہ ہے۔ اگر 25 سے 30 سال پہلے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن نافذ کر دیا جاتا، تو آج تک اس میں بہتری اور پختگی آ چکی ہوتی۔

حکومت نے ان بلوں پر بحث کے لیے 12 گھنٹے مقرر کیے ہیں، جسے ضرورت پڑنے پر 18 گھنٹے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ آج دوپہر 3 بجے نریندر  مودی نے لوک سبھا سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے بل کی اہمیت اور حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔