Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha

قانون و انصاف کے مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے دفتر کو موجودہ ججوں کے خلاف مجموعی طور پر 8,360 شکایات موصول ہوئی ہیں۔

طویل بحث کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روزلوک سبھا میں تقریرکی۔ انہوں نے ہند-امریکہ ٹریڈ ڈیل (تجارتی معاہدہ) پربات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہندوستان کے اعداد وشمار کی نگرانی کررہا ہے، ڈالرکوچیلنج کیا جا رہا ہے اورامریکہ کے غلبہ کوچیلنج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایوان سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی مخاطب کیا۔

راہل گاندھی کے دستخط نہ کرنے کے معاملے پر نیوز ایجنسی اے این آئی نے کانگریس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی جمہوریت میں قائدِ حزبِ اختلاف کا اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے نوٹس پر دستخط کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی وجہ سے راہل گاندھی نے اس نوٹس پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ادھر آج صبح اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں قائدحزب اختلاف کے چیمبر میں صبح 10 بجے ایک اہم میٹنگ بلائی، جس میں موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن نے حکومت پر پارلیمانی روایات کو پامال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

لوک سبھا میں اسپیکراوم برلا پرکاغذ پھینکنے والے اراکین پارلیمنٹ پورے سیشن کے لئے معطل کردیا گیا ہے۔ اس اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکرکی کرسی کے پاس جاکر پیپر پھینکے تھے۔ اس کے بعد اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

اتراکھنڈ کے کوٹ دوار سے تعلق رکھنے والے جِم مالک دیپک کمار ان دنوں ملک بھر میں بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی ایوانوں تک ان کے اقدام کو انسانیت کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ راہل گاندھی نے بھی ان کی کھل کر تعریف کی۔ تاہم، جس واقعے نے دیپک کمار کو شہرت دلائی، اسی واقعے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ جب سابق فوجی سرکاری بقایاجات کے تحت کسی ریفرل پر نجی اسپتال جاتے ہیں تو ان کے علاج اور داخلے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار نجی اسپتال یہ کہہ کر علاج سے انکارکردیتے ہیں کہ حکومت نے ابھی تک بقایا رقم ادا نہیں کی ہے۔

مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ کانگریس اور بی جے پی کے کارکن اور لیڈر سیاسی حریف ہو سکتے ہیں، دشمن نہیں۔ ان کے مطابق مختلف نظریات کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں ایک ترقی یافتہ بھارت کے لیے کام کرنے کی بات کرتی ہیں،

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو لاکھوں ملازمین کو فائدہ ہوگا، جو دفتر کے اوقات ختم ہونے کے باوجود ای میلز اور فون کالز کے دباؤ میں رہتے ہیں۔ بل ملازمین کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ آف ڈیوٹی کالز یا ای میلز کا جواب دینے سے انکار کر سکیں اور اس بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔

بھارت کی پی ایل آئی اسکیم نے ملک میں اعلیٰ کارکردگی والے سولر پی وی ماڈیولز کی گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کے ساتھ روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ لوک سبھا میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 تک ملک بھر میں اس اسکیم کے تحت 43 ہزار سے زائد روزگار پیدا ہوئے، جن میں 11,220 براہِ راست ملازمتیں شامل ہیں۔