Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو لاکھوں ملازمین کو فائدہ ہوگا، جو دفتر کے اوقات ختم ہونے کے باوجود ای میلز اور فون کالز کے دباؤ میں رہتے ہیں۔ بل ملازمین کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ آف ڈیوٹی کالز یا ای میلز کا جواب دینے سے انکار کر سکیں اور اس بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔

بھارت کی پی ایل آئی اسکیم نے ملک میں اعلیٰ کارکردگی والے سولر پی وی ماڈیولز کی گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کے ساتھ روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ لوک سبھا میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 تک ملک بھر میں اس اسکیم کے تحت 43 ہزار سے زائد روزگار پیدا ہوئے، جن میں 11,220 براہِ راست ملازمتیں شامل ہیں۔

ڈی آئی ڈی ایف اور اے ایچ آئی ڈی ایف کے تحت منصوبوں میں پروسیسنگ پلانٹ کی توسیع، یو ایچ ٹی لائنز اور دودھ پاؤڈر کی سہولیات شامل ہیں۔ نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس (NCD) پورٹل کے مطابق، گجرات میں 15,740 فعال ڈیری کوآپریٹیو ہیں۔ فی الحال، امول اپنے کوآپریٹو نیٹ ورک کے ذریعے گجرات سے روزانہ تقریباً 250 لاکھ لیٹر دودھ خریدتا ہے، جس سے گجرات ملک میں دودھ پیدا کرنے والی سرکردہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن کا ہنگامہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایس آئی آرسمیت مختلف مسائل پرلوک سبھا اورراجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا، جس کی وجہ سے کارروائی دوپہرتک ملتوی کرنی پڑی۔ ناراض لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے ممبران پارلیمنٹ کو خبردارکیا کہ عوام نے انہیں سرکاری املاک کوتباہ کرنے کے لئے منتخب نہیں کیا ہے اوراگرحالات بہترنہیں ہوئے تو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

شاہ نے مزید کہا کہ وزارت نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹ لمیٹڈ (NCEL) کو مارکیٹ کی معلومات فراہم کرنے اور مخصوص ممالک کے درآمد کنندگان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے بیرون ملک ہندوستانی مشنوں کے ذریعے کام کر رہی ہے۔

وزیر کھیل مانڈویہ نے کہا کہ ’’یہ بل کھیلوں کی تنظیموں میں شفافیت، احتساب اور بہتر نظم و نسق کو یقینی بنائے گا اور بھارتی کھیلوں کے نظام میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔‘‘

پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس کے پہلے روز، یعنی 21 جولائی کو، نئے انکم ٹیکس بل پر پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ لوک سبھا میں پیش کی گئی تھی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے بہار ووٹر لسٹ سے متعلق SIR پر اپوزیشن کے احتجاج کے بارے میں کہا، ’’یہ احتجاج صرف SIR کے خلاف نہیں، بلکہ بھارت کے جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہے۔  مہاراشٹر میں کیا ہوا، وہ بھی دیکھا۔ بہار میں SIR کے نام پر 65 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ یہ جمہوریت کا واضح قتل ہے۔ ہم عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

بہارمیں ووٹرلسٹ کے اسپیشل انٹینسیورویژن (ایس آئی آر) پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں بحث کا مطالبہ کیا، جس کی وجہ سے کارروائی ملتوی کردی گئی۔ ڈپٹی چیئرمین اورلوک سبھا اسپیکرنے پارلیمانی ضوابط پرعمل کرنے کی اپیل کی۔ کانگریس اورڈی ایم کے نے بحث کے لئے نوٹس دیئے، جبکہ انڈیا الائنس نے احتجاج کیا۔

امت شاہ نے لوک سبھا میں کانگریس لیڈر چدمبرم کے تبصرے کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو وہ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے؟ مجھے بہت دکھ ہوا کہ پیر کو اس ملک کے سابق وزیر داخلہ چدمبرم جی نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے؟