Bharat Express DD Free Dish

Israel-Hamas Cease Fire

اسرائیل کو غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تباہ کن انسانی بحران پر عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ غزہ میں صرف دو ہفتوں کے دوران 900,000 سے زیادہ فلسطینی جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں اور اب اس کے پاس پناہ، خوراک، پانی اور ادویات کی شدید کمی ہے۔

الاقصیٰ اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ایاز الجابری نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بغیر تمام مریضوں کو موت ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے زور دے کر کہا، "یہ ایک دہشت گرد ریاست ہو گی۔ یہ 7 اکتوبر کے قتل عام کو بار بار دہرانے کی کوشش کرے گی، لیکن ہم اس سے اتفاق نہیں کریں گے۔"

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) نے رفح میں خوراک کی تقسیم کا پروگرام سیکورٹی خدشات کے باعث معطل کردیا تھا جس سے لوگوں کے لیے ایک نیا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

رسمی طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم 28 مئی کو کیا جائے گا۔ یہ پیشرفت فلسطینیوں کی دیرینہ خواہش کی طرف ایک قدم ہے جو غزہ پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی بحران پر بین الاقوامی غم و غصے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

لبنانی سیکورٹی ذرائع کے مطابق حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں میں لبنان کی جانب سے 479 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں حزب اللہ کے 303 ارکان اور 89 عام شہری شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسرائیل میں سلیوان یرغمالیوں کی رہائی کے متبادل حل پر اور جنگ کے مرحلہ وار خاتمے کی طرف بڑھنے کے لیے بات کریں گے۔

سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹونیو گٹیرس نے اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل نے غزہ پٹی کے رفح شہر میں فوجی آپریشن شروع کردیا ہے۔ اسی درمیان اسرائیل کے وزیراعلیٰ بنجامن نیتن یاہو نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے رفح میں آپریشن شروع کردیا ہے۔ حماس کے پرچم کو ہٹا کر اسرائیلی پرچم لگا دیئے گئے ہیں۔

حماس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے اپنے اس فیصلے سے قطر اور مصر کو بھی مطلع کردیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لئے تمام شرائط ماننے کے لئے تیار ہے۔