Bharat Express DD Free Dish

Israel-Hamas Cease Fire

گیارہ سال کے طویل انتظار کے بعد فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ ”ریاست کے قیام سے ہی یہ ہمارا اصول رہا ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو واپس لاتے ہیں۔ آج ہم وہی کر رہے ہیں۔ ہمیں لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش موصول ہو گئی ہے اور شناخت کی باضابطہ تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے“۔

حماس امریکی صدرٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے کچھ پہلوؤں کے بارے میں غیریقینی ہے۔ مصرمیں بالواسطہ بات چیت کے دوران حماس نے اسرائیل سے غزہ سے مکمل انخلاء اورمستقل جنگ بندی کی ضمانت کا مطالبہ کیا۔ یرغمالیوں کی رہائی پر رضا مندی کے باوجود، اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء سے متعلق ابہام نے جنگ بندی کوروک دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت جنگ بندی اب حماس کے فیصلے پر منحصر ہے۔ دریں اثنا، اسرائیل نے انخلاء کی لائن پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ نے حماس سے کہا ہے کہ وہ فوری طورپر اس تجویزکو قبول کرے۔ اس نے حماس کوشام 6 بجے تک کا وقت دیا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ کسی قسم کی تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی۔

حماس نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے، لیکن مذاکرات ابھی جاری ہیں، اور کچھ اہم نکات پر اتفاق رائے باقی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ ہے، جسے حماس نے "سرخ لکیر" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر میں اس وقت تناؤ کی کیفیت ہے، جو امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیئے گئے سخت پیغام کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس دوران یہ بھی واضح ہوا کہ امریکہ اور حماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔

مشاورت کے باوجود اسرائیلی فوج نے شمال اور جنوب میں بفر زون قائم کرنے کے منصوبوں کے درمیان بہت سے علاقوں کو خالی کرا لیا ہے اور غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے

اسرائیل دوسرے مرحلے کی جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے بغیر ہی باقی تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی چاہتا ہے۔ حتی کہ اس کے لئے مذاکرات سے بھی گریزاں ہے۔ جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے سلسلے میں پیش رفت کے بغیرقیدیوں کورہا نہیں کیا جاسکتا۔

وال اسٹریٹ جرنل اخبارنے واضح کیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اوریرغمالیوں کی رہائی میں پیش رفت نہ ہونے کے بیچ اسرائیلی حکام غزہ کی پٹی میں لڑائی کی کارروائیوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بالخصوص جبکہ اسرائیل کے ہتھیاروں اورگولہ بارود کے ذخائرکی تجدید ہوچکی ہے۔

حماس اوراسرائیل کے درمیان ایک بارپھرجنگ بندی کی بات چیت ناکام ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق بات چیت ہونی تھی، لیکن اسی درمیان حماس نے باضابطہ طور پر بات چیت ناکام ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل جمعرات کو غزہ سے چار قیدیوں کی لاشیں وصول کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ ہفتے کے روز چھ زندہ قیدیوں کی واپسی کے لیے کام کر رہا ہے۔اگر یہ مکمل ہو جاتا ہے تو غزہ میں صرف چار قیدی رہ جائیں گے۔