Bharat Express DD Free Dish

Israel-Hamas Cease Fire

نیتن یاہو نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے ٹھوس مؤقف کی وجہ سے آج ہمارے تین یرغمالیوں کو رہا کیا گیا حالانکہ حماس کی جانب سے پہلے ان کی رہائی سے انکار کردیا گیا تھا۔

ادھر بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر نے آج جمعے کے روز بتایا ہے کہ وہ غزہ میں یرغمالیوں کی حالت کے حوالے سے "نہایت تشویش" رکھتی ہے۔ صلیب احمر وہ تنظیم ہے جو اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔

بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر حماس نے اگلے ہفتے کی دوپہر تک پٹی میں قید اسرائیلیوں کو رہا نہ کیا تو غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ "فوج اس وقت تک شدید لڑائی کے لیے واپس آئے گی۔

واضح رہے کہ پہلا مرحلہ چھ ہفتے جاری رہے گا جس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی اور اس کے مقابل تقریبا 1900 فلسطینی گرفتار شدگان شامل ہیں۔اسی طرح مذکورہ مرحلے میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کا داخل کیا جانا شامل ہے۔

القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے آج جمعہ کو ٹیلی گرام پر تصدیق کی کہ عوفر کالڈرون، کیتھ سیگل اور یارڈن بیباس کو کل رہا کر دیا جائے گا۔اسرائیل نے تصدیق کی کہ اسے گرفتار افراد کی فہرست موصول ہوئی ہے جنہیں تحریک کل رہا کرنے والی ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر2023 سے جاری جنگ کے لئے جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے۔ اس طرح سے دونوں ممالک میں خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔

اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ اور 12 دن بعد جنگ بندی کے معاہدے پر تقریباً 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمل درآمد شروع ہو گیا تھا، چند گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے اسرائیلی حملوں میں مزید 19 فلسطینی شہید اور 36 زخمی ہوئے تھے۔

غزہ میں 11 ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہفتہ کے روز غزہ کی سرنگ سے 6 یرغمالیوں کی لاش ملنے کے بعد اسرائیل کے لوگوں میں کافی ناراضگی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو حکومت جلدازجلد حماس کے ساتھ سیز فائرمعاہدہ کرے، لیکن اتحادی کابینہ کے وزراء اسے روکنے کے لئے پوری طاقت لگا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اسرائیل فلسطین تنازع پر سچ بتائیں گے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس اس فیصلے کو نافذ کرنے کا اختیار ہے، لیکن اسرائیل کو امید ہے کہ اس کے اہم اتحادی امریکہ، اقوام متحدہ کی باڈی میں اسے ویٹو کر دے گا۔