Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan

پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام کے بیچ پی ٹی آئی کو آج ایک ساتھ دوہرا جھٹکا لگا ہے۔ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں راحت ملنے کے بعد یہ امید جتائی جارہی تھی کہ عمران خان جلد جیل سے باہر آجائیں گے لیکن ایسا ہونہ سکا۔ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ شاہ محمود قریشی بھی قید سے رہا نہ ہوسکے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے منگل کے دن اس کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم کو ضمانت رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے آگاہ کیا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ان کی سزا پر روک لگا دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کردیا ہے۔

لاہور پولیس کی طرف سے دائرکی گئی عرضی کے جواب میں دہشت گردی مخالف عدالت نے 9 مئی کو جناح ہاؤس میں ہوئے توڑ پھوڑ کے الزام میں عمران خان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائرکرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں؟ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا جی بالکل، وہ اجازت نامہ درست نہیں ہے۔

بشریٰ بی بی نے کہا کہ عمران خان صاحب بالکل ٹھیک ہیں، لیکن انہیں کلاس سی میں رکھا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود قانونی ٹیم کو ملنے نہیں دیا گیا۔ ہم اس معاملے کو عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔

عمران کو ویڈیو میں جگہ نہ دینے پر وسیم اکرم نے منگل کے روز پی سی بی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا کہ پی سی بی کی وضاحت کو ہضم کرنا مشکل ہے کیونکہ ویڈیو میں تقریباً 48 گھنٹے بعد ترمیم کی گئی۔

ویڈیو میں پاکستان کے موجودہ کپتان بابر اعظم کی کامیابیوں کا ذکر ہے، لیکن عمران خان کی 1992 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم غائب ہے ...

آج یعنی 14 اگست کو پڑوسی ملک پاکستان اپنا 'یوم آزادی' منا رہا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی عوام کو توقع تھی کہ دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ پر ان کا قومی پرچم لہرایا جائے گا۔ لیکن ٹویٹر پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیوسے پتہ چلتا ہے کہ  کیسے پاکستانیوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

آج کا بھارت 80 کروڑ لوگوں کو مفت راشن دیتا ہے جبکہ پاکستان میں ایک کلو آٹے کے لیے بھی لڑائی ہوتی ہے۔ بھارت خوشی اور خوشحالی کی علامت ہے جب کہ پاکستانی عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی عوام کی جانب سے بھارت کی مودی جیسی حکومت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے