
امارت شرعیہ کے دوگروپ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ وہیں پولیس بھی اس معاملے میں مداخلت کررہی ہے۔
پٹنہ میں وقف ترمیمی بل کے خلاف زبردست احتجاج کے دو دن بعد امارتِ شرعیہ بہار، جھارکھنڈ کے دفترپرحملہ کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے یا پھریہ کہا جائے کہ امارت شرعیہ کے دفترپرسرکاری قبضہ ہوگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بہارپولیس بھی پہنچ گئی اورمعاملے کی تفتیش کی اورافراتفری کا ماحول رہا۔ حالانکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ وقت میں امارت شرعیہ کے دفترپرقابض موجودہ ذمہ داران اور باغی گروپ کے درمیان تنازعہ کی وجہ سے معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ پولیس کو پہنچنا پڑا۔ حالانکہ اس سلسلے میں لوگ سوشل میڈیا پراسے سوچی سمجھی سازش قراردے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ دراصل، امارتِ شرعیہ بہار، جھارکھنڈ اوراڈیشہ کے مسلمانوں کا ایک مضبوط ادارہ ہے، جسے کمزورکرنے کی کوشش کی گئی تاکہ امت کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹائی جا سکے۔ دونوں گروپوں کی طرف سے مختلف طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیں، لیکن موجودہ قیادت نے تختہ پلٹنے کی بات کہی ہے اور جے ڈی یو کو وہ سازش کا حصہ تسلیم کررہے ہیں۔ جبکہ باغی گروپ کا ماننا ہے کہ موجودہ قیادت کو عہدے پر برقراررکھنے کا اختیارنہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق، یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ملک بھرمیں وقف بل کے خلاف زبردست احتجاج جاری تھا۔ پٹنہ میں ہوئے بڑے مظاہرے کے بعد یہ خدشہ تھا کہ مزید مظاہرے ہوں گے، جس سے حکومت پردباؤ بڑھے گا۔ ایسے میں امارت شرعیہ کے داخلی معاملات کواچھال کرمسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کا الزام نتیش کمارکی قیادت والی اتحادی حکومت کودیا جا رہا ہے، جس نے ہمیشہ مسلمانوں کوسیاسی طور پر کمزور کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ نتیش کمارکو معلوم تھا کہ اگروقف بل کے خلاف تحریک زورپکڑتی ہے، تو 2025 کے انتخابات میں اس کا اثرپڑسکتا ہے۔ اسی لیے بعض مخصوص افراد کوآگے کرکے امارت شرعیہ میں تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ حملہ اورلڑائی اس بات کی ہے کہ پہلے سے ہی امارت شرعیہ سے برطرف کیے جا چکے افراد اب بھی اقتدارچاہتے ہیں۔ ساتھ ہی دونوں گروپ ایک دوسرے پرمالی بدعنوانی اوراخلاقی الزامات بھی لگا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ پورا معاملہ پاوراور طاقت کا ہے۔ لیکن موجودہ وقت میں جب قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے تو یہ ذمہ داران خود آپس میں گروپ بازی میں تقسیم ہوکرخود کی رسوائی کرا رہے ہیں۔
امارت شرعیہ کے ایک عہدیدارنے نام شائع نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ حیرت کی موجودہ تعطل اورجنگ میں کچھ ایسے لوگ بھی اس میں شامل ہیں جو پہلے اپنی الگ امارت بنا چکے تھے، لیکن اب دوبارہ امارتِ شرعیہ میں دخل اندازی کررہے ہیں۔ ان کے اس عمل سے ان کی بدنیتی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اس حملے کا مقصد مسلمانوں کوداخلی مسائل میں الجھا کروقف بل کے خلاف جاری مزاحمت کوکمزورکرنا تھا۔ امارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا کرامت کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ مسلمان ہوشیاری کا مظاہرہ کریں، اختلافات میں نہ الجھیں اوراصل دشمن کی چالوں کو سمجھیں۔ امارتِ شرعیہ پر حملہ مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی ایک کوشش ہے، جسے ناکام بنانے کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ تاہم یہ لڑائی جیسی بھی ہو، قوم کے مفاد اور حق میں بالکل نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔