Bharat Express DD Free Dish

JDU

بہار کی سیاست اور جے ڈی یو کے اندرونی اختلافات میں تیزی آگئی ہے۔ اننت سنگھ کے خلاف کارروائی کے بعد اب ایم ایل سی نیرج کمار کے بیانات نے پارٹی میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کردیا ہے۔

پورے تنازع کی شروعات قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ہوئی۔ اننت سنگھ نے جے ڈی یو کے سرکاری امیدوار نیرج کمار کی حمایت کرنے کے بجائے جن سوراج کے امیدوار انوج سنگھ کے حق میں کھل کر انتخابی مہم چلائی تھی۔انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کی مخالفت کی اور کئی سینئر رہنماؤں کے بارے میں عوامی سطح پر بیانات بھی دیے۔

جن سوراج کے امیدوار کی حمایت کرنا پڑا مہنگا، قانون ساز کونسل انتخابات میں کراس ووٹنگ کے بعد جے ڈی یو کا سخت قدم

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں نتیش کمار کے ’انڈیا‘ بلاک سے الگ ہونے پر مبینہ تبصرے کے بعد سیاسی بیان بازی تیز، جے ڈی یو لیڈر للن سنگھ نے کہا - نتیش کمار نے اپنے کام کے دم پر بہار کی خدمت کی۔

مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا اختلاف نہیں، تمام فیصلے باہمی مشاورت سے لیے جاتے ہیں

بہار کی سیاست میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے نام کی تبدیلی کا معاملہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ پارٹی کے نام کو بدل کر ’جنتا دل نتیش‘ یا ’جے ڈی یو-نتیش‘ رکھنے کا مطالبہ پارٹی کے اندر سے اٹھ رہا ہے، جس کی ریاستی صدر امیش کشواہا نے بھی کھل کر حمایت کر دی ہے۔

جے ڈی یو رکن اسمبلی اننت سنگھ نے کہا ہے کہ بانکی پور میں بی جے پی کی شکست کی سب سے بڑی وجہ عوام کی ناراضگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نتیش کماریہاں ہوتے تو ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ الیکشن میں عوام نے نتیش کمار کے نام پر ووٹ دیا تھا۔ عوام کے درمیان قیاس آرائی ہے کہ انہیں ہٹا دیا گیا۔

جے ڈی یو کے رکن اسمبلی شیام رجک نے کہا کہ عامرخان محب وطن (دیش بھکت) ہیں۔ ان کی فلموں میں بھی حب الوطنی جھلکتی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے عامرخان کی گوری اسپریٹ سے تیسری شادی پرسوال اٹھایا تھا۔ اب بہارمیں بی جے پی کی اتحادی جماعت نتیش کمارکی جے ڈی یونےعامرخان کی حمایت کرتے ہوئے انہیں محب وطن (دیش بھکت) قراردیا ہے۔

غلام رسول بلیاوی نے کہا کہ جس انداز میں اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کو تحلیل کیا گیا ہے، اس پر پورے ملک کی نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، مدرسہ بورڈ کا قیام مذہبی تعلیم کے فروغ کے مقصد سے کیا گیا تھا، لیکن اب اسے تحلیل کرنا ایک غلط فیصلہ ہے۔

مہاراشٹر میں شیوسینا یوبی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی بغاوت کے بعد اس کا اثربہار میں برسراقتدار اتحاد کی ایک پارٹی جے ڈی یو پر پڑسکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ نتیش کمار کی پارٹی پر اس کا کیسے اثر پڑے گا؟ مہاراشٹر میں شیو سینا کے 6 اراکین پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی شیو سینا میں جانے کے بعد این ڈی اے کا نمبر گیم بدل سکتا ہے۔