ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی شہری دشمن ممالک کو تصاویر، ویڈیوز یا کسی بھی قسم کی حساس معلومات فراہم کرے گا، اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر کی جانب سے جاری کیا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اصغر جہانگیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یا اسرائیل کو کسی بھی نوعیت کی معلومات فراہم کرنا قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن ممالک کو حساس مقامات کی تصاویر یا ویڈیوز بھیجنا دراصل ان کی فوجی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکی حملوں کے دوران ایران کے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کارروائی سے متعلق ویڈیوز بھی شیئر کیے تھے، جس کے بعد ایرانی حکام نے داخلی سطح پر نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق دشمن کو فراہم کی جانے والی معلومات ان حملوں کو مزید مؤثر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں منظور کیے گئے نئے جاسوسی قوانین کے تحت دشمن ممالک کو معلومات فراہم کرنے پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان قوانین کے تحت نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا بلکہ ان کا تمام سامان ضبط کرنے کے بعد انہیں سزائے موت تک دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ شدہ علاقوں کی تصاویر لینے سے دشمن کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ حملہ درست جگہ پر ہوا یا نہیں، اس لیے یہ عمل دشمن کی براہ راست مدد تصور کیا جائے گا۔
ایرانی حکام نے اس معاملے میں پہلے ہی کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد پر امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ خفیہ اداروں کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق شمال مغربی ایران میں سیکیورٹی فورسز نے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا، جنہیں بعد ازاں عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے حساس مقامات کی معلومات فراہم کرنے کے بدلے کرپٹو کرنسی حاصل کی۔ انہیں مشرقی آذربائیجان صوبے کے اوسو علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور دیگر مشتبہ افراد کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی حمایت پر عراقی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ عراقی عوام نے مشکل وقت میں ایران کے ساتھ کھڑے ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حمایت مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی اقدار کی بنیاد پر قائم ہے۔ ایرانی حکومت کے اس سخت مؤقف نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری تنازعہ کے دوران ایسے اقدامات سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
