Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ میں وقف ترمیمی ایکٹ کی سماعت پرآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ ہم اس ایکٹ کو غیر قانونی مانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سینٹرل وقف کونسل اور اسٹیٹ وقف کونسل کی تشکیل نہیں کی جائے گی اور وقف بائی یوزر کو ہٹایا نہیں جاسکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پہلی بار یہ تجویز کیا تھا کہ صدر کو اس طرح کا ریفرنس موصول ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر گورنر کے ذریعے غور کے لیے محفوظ کردہ بلوں پر فیصلہ کرنا چاہیے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے پیش ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں ابتدائی جواب اورمتعلقہ دستاویزات داخل کرنے کے لیے سات دنوں کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظورکرلیا۔

درخواست گزاروں کو اہم نکات پر اتفاق کرنا چاہیے۔ ان اعتراضات کو نوڈل کونسل کے ذریعے حل کریں۔ عدالت نے مرکز کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ تب تک وقف بورڈ اور کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانونی پر عبوری فیصلہ سنا دیا ہے اور اس فیصلے کے تحت مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں تفصیلی جواب دینے کا موقع دیا گیا ہے تب تک اس نئے ترمیمی قانون کے تحت کوئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ وقف ترمیمی قانون پر آج پھر سماعت شروع ہوچکی ہے۔ اور آج ایسا ممکن ہے کہ سپریم کورٹ آج اس قانون سے متعلق عبوری فیصلہ بھی صادر کرے۔

سپریم کورٹ نے تبصرہ کیاتھا کہ کوئی بھی جائیداد جسے عدالت نے وقف قرار دیا ہے، اسے غیر وقف نہیں سمجھا جائے گا، چاہے وہ وقف صارف نے حاصل کی ہو یا نہ ہو۔ سپریم کورٹ وقف ایکٹ سے متعلق تین سوالات پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد عبوری حکم جاری کرے گی۔

سپریم کورٹ میں وقف قانون کو چیلنج دینے والی 70 سے زائد عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ مسلم فریق کی طرف سے بیشتر دلیلیں سینئر وکیل اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے رکھی۔ چیف جسٹس سنجیوکھنہ کی قیادت والی تین رکنی بینچ اس موضوع کی سماعت کررہی ہے۔

عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ وقف بورڈ میں سابق ممبران کے علاوہ صرف مسلم ممبران ہونے چاہئیں، جس کی سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے مخالفت کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے آج کوئی فیصلہ صادرنہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی کسی بورڈ کی مدت ختم نہیں ہورہی ہے۔ پی آئی ایل کی درخواستوں کی سماعت کے بعد اس طرح کے احکامات نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ یہاں کوئی وقف بورڈ نہیں آیا ہے۔

جسٹس بی آرگوئی عہدہ سنبھالنے کے 6 ماہ بعد تک چیف جسٹس رہیں گے اور نومبر 2025 میں ریٹائرہوں گے۔ وہ شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے دوسرے چیف جسٹس ہوں گے۔