Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے، جب کہ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 132 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد ہفتہ کو اس بل کو صدر کی منظوری مل گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ قانون بن گیا۔

وقف ترمیمی بل 2024 کولوک سبھا اورراجیہ سبھا میں منظور کردیا گیا ہے اورصدرجمہوریہ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔

وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملی  تنظیمیں اورہزاروں مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہیں آل انڈیا مسلم جماعت نے بل کی حمایت کی ہے۔

5 مارچ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ہندو مدعی کی طرف سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور مرکز کو فریقین کے طور پر شامل کرنے کی درخواست پر اس کی اجازت دی دی تھی۔

حکومت نے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم کمیونٹی کے مذہبی آزادی میں مداخلت نہیں کرتا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بحث کے دوران مسلم کمیونٹی کو یقین دلایا کہ یہ بل ان کے مذہبی عمل میں مداخلت نہیں کرے گا۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ پولیس ریاستی نظام کا ایک اہم حصہ ہے، اس کا سماج اور لوگوں کے تحفظ پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ پولیس افسروں کو اپنی حد نہیں پار کرنی چاہیے۔

سینئر وکیل آدیش اگروال نے بتایاکہ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں جس میں ججوں کو سرکاری ویب سائٹ پر اپنے اثاثوں کا اعلان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا جو ماضی کے واقعات کی وجہ سے تھوڑا سا کم ہو گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ معاوضہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں حکومتیں مناسب طریقہ کار کے بغیر لوگوں کے مکانات گرانے سے گریز کریں۔ ججوں نے منظر عام پر آنے والی ایک حالیہ ویڈیو کا بھی حوالہ دیا جس میں ایک لڑکی اپنی کتابیں لے کر گرتی ہوئی جھونپڑی سے بھاگتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف معاملے کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا لازمی جزو ہے۔

یہ عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں، چاہے جج خود کسی نقطہ نظر سے متفق کیوں نہ ہوں۔ بعض اوقات ہم ججوں کو کوئی تحریری یا زبانی رائے پسند نہیں آسکتی ہے، لیکن بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔