Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

دیا سنگھ نے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیاہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ہندو اور سکھ مذہبی ٹرسٹوں کو خود مختار قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن اس قانون کو لا کر مسلم وقف کے معاملات میں حکومتی مداخلت بڑھا دی گئی ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔

مہاراشٹر حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سائن بورڈز پر اردو سمیت دیگر علاقائی زبانوں کے استعمال کو جاری رکھیں گے۔ اس فیصلے سے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں اردو زبان کے استعمال کو فروغ ملے گا۔

مرکزی حکومت نے عدالت میں کیویٹ بھی داخل کیا ہے۔یہ ایک قسم کا قانونی نوٹس ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دائر کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی حکم صادر ہوتا ہے تو اس فریق کو سنا جاتا ہے۔

نئے وقف ترمیمی ایکٹ کی دفعہ3 ای کے تحت درج فہرست قبائل کے لوگوں کی زمین کو وقف جائیداد قرار دینے سے منع کیا گیا ہے۔ قبائلی تنظیمیں اسے اپنی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم شق سمجھ رہی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند نے نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسرخلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردارکو متاثر کرنے والی ہیں۔

ریاستی حکومت نے ایکٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک شفاف اور آئینی اصلاحات ہے جس کا مقصد سرکاری اور نجی اراضی کو وقف املاک کے طور پر من مانی طور پر اعلان کرنے کے عمل کو روکنا ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے سبل نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وفاقی ڈھانچہ آئینی اصولوں کے تحت آگے بڑھے گا۔

سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کی بنیاد پر تمل ناڈو حکومت نے ان دس قوانین کو مطلع کر دیا ہے جو گورنر آر این روی کے ذریعہ روکے گئے تھے۔

عرضی گزار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ یہ قانون آئین ہند کی متعدد بنیاد ی دفعات سے متصادم، اکثریتی ذہنیت کی پیداوار اور بدنیتی پر مبنی 13 اپریل کو جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مزید اقدامات پر غور ہوگا۔

 جے ڈی یو لیڈر پرویز صدیقی نے بھی عرضی داخل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرکوئی درج فہرست ذات کا شخص اسلام قبول کرلیتا ہے، تواسے اپنی جائیداد کو وقف کرنے سے روکنا غلط ہے۔