Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ وقف بورڈ میں سابق ممبران کے علاوہ صرف مسلم ممبران ہونے چاہئیں، جس کی سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے مخالفت کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے آج کوئی فیصلہ صادرنہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی کسی بورڈ کی مدت ختم نہیں ہورہی ہے۔ پی آئی ایل کی درخواستوں کی سماعت کے بعد اس طرح کے احکامات نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ یہاں کوئی وقف بورڈ نہیں آیا ہے۔

جسٹس بی آرگوئی عہدہ سنبھالنے کے 6 ماہ بعد تک چیف جسٹس رہیں گے اور نومبر 2025 میں ریٹائرہوں گے۔ وہ شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے دوسرے چیف جسٹس ہوں گے۔

دیا سنگھ نے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیاہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ہندو اور سکھ مذہبی ٹرسٹوں کو خود مختار قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن اس قانون کو لا کر مسلم وقف کے معاملات میں حکومتی مداخلت بڑھا دی گئی ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔

مہاراشٹر حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سائن بورڈز پر اردو سمیت دیگر علاقائی زبانوں کے استعمال کو جاری رکھیں گے۔ اس فیصلے سے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں اردو زبان کے استعمال کو فروغ ملے گا۔

مرکزی حکومت نے عدالت میں کیویٹ بھی داخل کیا ہے۔یہ ایک قسم کا قانونی نوٹس ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دائر کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی حکم صادر ہوتا ہے تو اس فریق کو سنا جاتا ہے۔

نئے وقف ترمیمی ایکٹ کی دفعہ3 ای کے تحت درج فہرست قبائل کے لوگوں کی زمین کو وقف جائیداد قرار دینے سے منع کیا گیا ہے۔ قبائلی تنظیمیں اسے اپنی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم شق سمجھ رہی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند نے نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسرخلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردارکو متاثر کرنے والی ہیں۔

ریاستی حکومت نے ایکٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک شفاف اور آئینی اصلاحات ہے جس کا مقصد سرکاری اور نجی اراضی کو وقف املاک کے طور پر من مانی طور پر اعلان کرنے کے عمل کو روکنا ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے سبل نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وفاقی ڈھانچہ آئینی اصولوں کے تحت آگے بڑھے گا۔

سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کی بنیاد پر تمل ناڈو حکومت نے ان دس قوانین کو مطلع کر دیا ہے جو گورنر آر این روی کے ذریعہ روکے گئے تھے۔