Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ پر 14 مارچ کولگی آگ میں بڑی مقدارمیں نقدی جلنے کی خبرسامنےآئی تھی۔ حالانکہ جسٹس ورما نے اسٹورروم میں نقدی رکھنے سے انکارکیا ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس نے جائے حادثہ کا جائزہ لیا ہے اوراسٹورروم کو سیل کرنے کی کارروائی کررہی ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ بڑی تعداد میں پیڑوں کی غیر قانونی کٹائی انسان کے قتل سے بھی بُرا کام ہے کیونکہ ان پیڑوں کے دوبارہ بننے میں 100 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 17 مارچ کواپنے فیصلے میں کہا تھا کہ متاثرہ خاتون کے پستان کوپکڑنا اورپاجامہ کا ازاربند توڑنا آبروریزی کی کوشش نہیں کہلائے گا۔

یاد رہے کہ مہاراشٹر میں حالیہ برسوں میں کئی انحرافات ہوئے اور یہ کچھ یوں  ہوا کہ حکومت گرنے کے ساتھ ہی پارٹیاں خود دو حصوں میں بٹ گئیں۔ مئی 2022 میں شیوسینا کو تقسیم کا سامنا کرنا پڑا۔

دہلی ہائی کورٹ کے جج کی رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں برآمد نقدی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔ عرضی میں دہلی پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور مؤثرجانچ کرنے کے احکامات دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا نے دہلی ہائی کورٹ کے موجودہ جج جسٹس یشونت ورما کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شیل ناگو، ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جی ایس سندھوالیا اور کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس انو شیورامن شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے گجرات فساد سے متعلق ایک معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے 6 ملزمین کو بری کردیا ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی معاملے میں صرف موقع پرموجود ہونا یا وہاں سے گرفتار ہونا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ وہ غیرقانونی ہجوم کا حصہ تھے۔

سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما سے متعلق واقعے کو لے کر بہت سی غلط معلومات اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس یشونت ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے مبینہ طور پر آگ بجھانے کے دوران بڑی رقم برآمد ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

دہلی کے تین مندروں پربلڈوزرکارروائی سے متعلق سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں سے کہا کہ آپ ہائی کورٹ کیوں نہیں جاتے۔ وکیل وشنونے کہا کہ جہانگیرپوری معاملے میں سپریم کورٹ نے مداخلت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے عرضی خارج کردی کہ ہائی کورٹ جائیے۔

سی پی آئی ایل کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ فی الحال سی اے جی کی تقرری صدر کے ذریعہ وزیر اعظم کی سفارش پر کی جاتی ہے۔ اس عہدے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے کسی قابل اور غیر جانبدار شخص کا انتخاب ضروری ہے۔