Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملی  تنظیمیں اورہزاروں مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہیں آل انڈیا مسلم جماعت نے بل کی حمایت کی ہے۔

5 مارچ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ہندو مدعی کی طرف سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور مرکز کو فریقین کے طور پر شامل کرنے کی درخواست پر اس کی اجازت دی دی تھی۔

حکومت نے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم کمیونٹی کے مذہبی آزادی میں مداخلت نہیں کرتا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بحث کے دوران مسلم کمیونٹی کو یقین دلایا کہ یہ بل ان کے مذہبی عمل میں مداخلت نہیں کرے گا۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ پولیس ریاستی نظام کا ایک اہم حصہ ہے، اس کا سماج اور لوگوں کے تحفظ پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ پولیس افسروں کو اپنی حد نہیں پار کرنی چاہیے۔

سینئر وکیل آدیش اگروال نے بتایاکہ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں جس میں ججوں کو سرکاری ویب سائٹ پر اپنے اثاثوں کا اعلان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا جو ماضی کے واقعات کی وجہ سے تھوڑا سا کم ہو گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ معاوضہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں حکومتیں مناسب طریقہ کار کے بغیر لوگوں کے مکانات گرانے سے گریز کریں۔ ججوں نے منظر عام پر آنے والی ایک حالیہ ویڈیو کا بھی حوالہ دیا جس میں ایک لڑکی اپنی کتابیں لے کر گرتی ہوئی جھونپڑی سے بھاگتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف معاملے کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا لازمی جزو ہے۔

یہ عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں، چاہے جج خود کسی نقطہ نظر سے متفق کیوں نہ ہوں۔ بعض اوقات ہم ججوں کو کوئی تحریری یا زبانی رائے پسند نہیں آسکتی ہے، لیکن بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔

جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ پر 14 مارچ کولگی آگ میں بڑی مقدارمیں نقدی جلنے کی خبرسامنےآئی تھی۔ حالانکہ جسٹس ورما نے اسٹورروم میں نقدی رکھنے سے انکارکیا ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس نے جائے حادثہ کا جائزہ لیا ہے اوراسٹورروم کو سیل کرنے کی کارروائی کررہی ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ بڑی تعداد میں پیڑوں کی غیر قانونی کٹائی انسان کے قتل سے بھی بُرا کام ہے کیونکہ ان پیڑوں کے دوبارہ بننے میں 100 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔