Bharat Express DD Free Dish

shiv sena UBT

شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ایشیا کپ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے ساتھ میچ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ’’خون اور کرکٹ ایک ساتھ کیسے بہہ سکتے ہیں؟‘‘

سپریم کورٹ نے ادھوٹھاکرے گروپ کی جانب سے'دھنش-بان' انتخابی نشان کولے کردائردرخواست کی سماعت اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ یہ عرضی ایکناتھ شندے گروپ کوانتخابی نشان الاٹ کئے جانے کے خلاف ہے۔ ادھودھڑے نے بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر قبل ازوقت تصفیہ کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ شندے گروپ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ عدالت نے کہا ہے کہ اہم کیس کا حتمی فیصلہ اگست میں دیا جائے گا۔

مرکزی وزیررام داس اٹھاولے نے مہاراشٹر میں ہندی زبان کے تنازعہ پرسخت موقف اختیارکیا ہے۔ انہوں نے غنڈہ گردی میں ملوث افراد کو جیل بھیجنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین ہرشہری کوکہیں بھی رہنے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے یوپی میں 2026 کے پنچایت اور2027 کے اسمبلی انتخابات میں آرپی آئی کی شرکت کا بھی اعلان کیا۔

ناسک میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سینئر لیڈر ببن راؤ گھولپ اورسدھاکربڈگجرسمیت کئی لیڈران نے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ اس سے آئندہ الیکشن سے پہلے بی جے پی کو مضبوطی ملے گی۔

آپ کو بتادیں کہ ایک اخبار کی کٹنگ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرکے موجودہ حکومت اور بی ایم سی کو ٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن یہ اخباری کٹنگ اس وقت کی ہے جب سنیل پربھو بی ایم سی کے میئر تھے

شیوسینا (یوبی ٹی) رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کہا کہ اگرمیں ہی بھاگ جاتا تواورلوگ بھاگ جاتے۔ میں جو بھی ہوں اپنی پارٹی کی وجہ سے ہوں۔ میں بھاگ کرنہیں جاسکتا۔

سنجے راؤت کی کتاب ’’ہیل ٹوہیون‘‘ نے مہاراشٹرکی سیاست میں بھونچال لا دیا ہے۔ کتاب میں ای ڈی کی کارروائی، اراکین اسمبلی کا پارٹی بدلنا اوربی جے پی لیڈران پرالزام کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کتاب میں رویندر وائیکرجیسے لیڈران کے بحران اور ادھو ٹھاکرے کی مایوسی کا بھی ذکرہے۔

مہاراشٹر کے سیاسی گلیاروں میں راج ٹھاکرے کے اگلے قدم سے متعلق تعطل برقرار ہے۔ اس درمیان سنجے راؤت نے راج ٹھاکرے سے اتحاد پر کہا کہ سب کچھ پٹری پرہے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو کہا کہ وقف ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کے بعد بی جے پی اب اپنے ’’دوستوں‘‘ کے لیے عیسائیوں، جینوں، بدھوں اور یہاں تک کہ ہندو مندروں کی زمینوں پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔

سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے شیوسینا یو بی ٹی کے ساتھ ساتھ نوین پٹنایک کی قیادت والی بی جے ڈی پر بھی دباؤ بنایا تھا اور لوک سبھا میں وقف بل پر حمایت کا مطالبہ کیا تھا۔