Bharat Express DD Free Dish

Palestine issue

جے رام رمیش نے کہا کہ بھارت ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 18 نومبر 1988 کو ریاست فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے اس تاریخی ورثے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت فلسطینی کاز سے وابستگی کے حوالے سے بیانات تو دیتی ہے، لیکن عملی طور پر اسے ترک کر چکی ہے۔

بھارت 31 جنوری کو دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (آئی اے ایف ایم ایم) کی میزبانی کرے گا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں عرب لیگ کے دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل بھی شریک ہوں گے۔

’’ جب نسل کشی جاری ہو تو اس وقت غیر جانبدار رہنا، جرم میں شمولیت کے مترادف ہے۔ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ ہمارے احتجاجات اور سفارت خانوں سے بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کی چیخ ہر طاقتور کے کانوں تک پہنچنے۔‘‘

بین الاقوامی برادری نے غزہ کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن زمینی حالات میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کی اپیل کی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی پابندیوں کو "جنگی جرم" قرار دے رہی ہیں۔

فیکلٹی ممبرس نے دعویٰ کیا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سربراہ پروفیسر پرکاش سنگھ نے مغربی نظریات کے ’اوور پریزنٹیشن‘ پر اعتراض ظاہر کیا اور ’سائیکولوجی آف پیس‘ پیپر کے یونٹ 4 کو بدلنے پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے ’ناقابل واپسی اقدامات کرے۔

سعودی عرب کے مکہ واقع مسجد الحرام میں فلسطین کے لئے دعا کی گئی ہے۔ دعا کے دورام امام الشیخ السدیس سمیت نمازیوں نے فلسطین اور مسجدالاقصیٰ کے تحفظ کے لئے دعا مانگی۔ اس دوران فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر السدیس سمیت نمازیوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کومکمل ہونے والا ہے۔ تاہم جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اتوارکے روزاسرائیلی فوج نے اسی سلسلے میں کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے صدرڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو بنجامن نیتن یاہوکے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں انہوں نے غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے ایسا پلان پیش کیا تھا، جو غزہ کے ساتھ مسلم ممالک بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

فلسطین میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا ہے کہ اسرائیل کو "غزہ میں تمام انسانی امداد فراہم کرنی چاہیے"۔غزہ میں انسانی صورت حال پر ایکشن لینا چاہیے۔اہلکار نے مزید کہاکہ ہمیں غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے۔