Bharat Express DD Free Dish

Mukhtar Ansari

کالی باغ قبرستان کے باہر ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچے، لیکن پولیس نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ صرف خاندان کے قریبی لوگوں کو ہی اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نےنماز جنازہ شرکت کی۔

مختار انصاری کے بیٹے عمر انصاری نے باندہ کے ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر اپنے والد کا پوسٹ مارٹم دہلی ایمس کے ڈاکٹروں سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

منجو سنگھ نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کے قتل کے بعد پوری طرح ٹوٹ چکی تھی اور تب سے اس دن کا انتظار کر رہی تھی۔

قافلے میں موجود مختار کے وکیل نسیم حیدر نے بتایا کہ انصاری کی لاش ان کے چھوٹے بیٹے عمر انصاری، بہو نکہت انصاری اور دو کزنوں کے حوالے کر دی گئی۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پولیس اہلکاروں کی 24 گاڑیاں قافلے میں شامل ہیں اور دو گاڑیاں انصاری کے خاندان کی ہیں۔

باندہ کورٹ کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ بھگوان داس گپتا نے مختارانصاری کی موت کی عدالتی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ گریما سنگھ کو اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

مختارانصاری کی لاش کو غازی پور کے محمد آباد واقع کالی باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ قبرستان مختارانصاری کے غازی پوررہائش گاہ سے نصف کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسی قبرستان میں مختارانصاری کے والدین کی بھی قبرہے۔

مئوکے سابق رکن اسمبلی مختار انصاری کی موت ہوگئی ہے۔ انہیں 28 مارچ کی رات باندہ میڈیکل کالج میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد داخل کرایا گیا تھا، لیکن اہل خانہ نے سلو پوائزن دیئے جانے کا الزام لگایا ہے۔

مئوکے سابق ایم ایل اے مختارانصاری کی موت سے متعلق ان کے اہل خانہ کی طرف سے ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ ان کے دونوں بھائی اور بیٹے کی طرف سے کئی سنگین الزام لگائے گئے ہیں۔

مئوکے سابق رکن اسمبلی مختارانصاری کی موت کی عدالتی جانچ کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ ایک ماہ کے اندراس معاملے کی جانچ رپورٹ جمع کرنے کو کہا گیا ہے۔ فیملی نے انہیں سلو پوائزن دیئے جانے کا الزام لگایا ہے۔

سابق آئی پی ایس افسر نے کہاکہ یہ مختار انصاری کا طریقہ کار تھا۔ وہ جیل کانسٹیبلوں کے لیے گائے اور بھینسیں خریدتا تھا، ان کے لیے اسلحہ لائسنس بنوایا کرتا تھا اور وہی جیل کانسٹیبل 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اپنی لائسنس یافتہ بندوقوں کے ساتھ مختار انصاری کے ساتھ سیکیورٹی میں جاتے تھے۔