Bharat Express DD Free Dish

Mukhtar Ansari

قومی انسانی حقوق کمیشن نے مختارانصاری کی باندہ جیل میں موت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ آزاد ادھیکارسینا کے قومی صدرامیتابھ ٹھاکرنے کمیشن سے شکایت کی تھی کہ یہ موت مشکوک ہے۔

افضال انصاری نے غازی پور کی خصوصی عدالت میں گینگسٹر کیس میں گزشتہ سال دی گئی چار سال کی سزا کو منسوخ کرنے کے لیے اپیل دائر کی ہے۔ جبکہ کرشنا نند رائے کے اہل خانہ کی درخواست میں افضال انصاری کو دی گئی چار سال کی سزا میں اضافے کی اپیل کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق عمر انصاری اور نکہت بانو کی عباس انصاری سے ملاقات جیل کے اندر تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی۔ اس دوران عباس انصاری بہت جذباتی ہو گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ عباس انصاری سے ملاقات کے حوالے سے عمر انصاری نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ باپ کی موت کے بعد بیٹے کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

مختارانصاری کی موت پران کے بھائی اورغازی پور سے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ نہ سوچے کہ مختارکی موت سے کہانی ختم ہوگئی ہے۔ بلکہ ابھی تو کہانی شروع ہوئی ہے۔ 

ایس پی لیڈر دھرمیندر یادو نے مختار انصاری کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کیا اور اہل خانہ کو تسلی دی۔ اس کے بعد دھرمیندر یادو کالی باغ قبرستان پہنچے۔

مختار انصاری کے جسد خاکی  کو ہفتہ کے روز غازی پور ضلع کے محمد آباد میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس سے قبل ان کی نماز جنازہ  میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ ’’انشاء اللہ ان اندھیروں کا جگر چیر کر نور آئے گا، تم ہو 'فرعون' تو 'موسیٰ' بھی ضرور آئے گا‘‘ اس سے پہلے بھی اویسی نے مختار انصاری کی موت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔

مختار انصاری جو قتل سمیت کئی مقدمات میں سزا یافتہ تھے، باندہ جیل میں بند تھے۔ جمعرات کو وہ ہائی سکیورٹی سیل میں بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ جس کے بعد انہیں رانی درگاوتی میڈیکل کالج لے جایا گیا، جہاں ان کی موت ہوگئی۔

مختارانصاری کی موت کے بعد پہلی باران کے بھائی افضال انصاری کا بیان سامنے آیا ہے۔ افضال انصاری نے الزام لگایا کہ مختار انصاری کو زہردے کر مارا گیا ہے۔

مئوکے سابق رکن اسمبلی مختارانصاری کے نمازجنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ اس دوران حامیوں نے مختارانصاری زندہ آباد کے نعرے لگائے، جس پر ڈی ایم نے سخت وارننگ دی ہے۔