Bharat Express DD Free Dish

Mukhtar Ansari

لوک سبھا الیکشن کے درمیان فتح سیکری میں تشہیر کرنے پہنچے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سماجوادی پارٹی، کانگریس اوربی ایس پی پر جم کرحملہ بولا۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ آپ ان لوگوں کو چھٹی دے دیجئے۔

سی ایم نے کہا کہ جن لوگوں نے بھگوان شری رام اور بھگوان شری کرشن پر سوال اٹھائے ہیں، انہیں ووٹ دینے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔

درخواست میں مختار انصاری کی موت کی حقیقت سامنے لانے کی استدعا کی جائے گی۔ بیٹے عمر انصاری کی مختار انصاری سے آخری گفتگو کی آڈیو بھی بطور ثبوت پیش کی جائے گی۔

مئو کے سابق رکن اسمبلی مختارانصاری کی گزشتہ ماہ جیل سے باندہ اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگئی تھی۔ انتظامیہ نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک سے موت ہوئی ہے جبکہ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جیل میں زہر دیا گیا ہے۔

اتر پردیش کے ایک بڑے لیڈر اور سابق ایم ایل اے مختار انصاری کا جمعرات کو انتقال ہوگیا تھا۔ باندہ جیل میں ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی جس کے بعد انہیں علاج کے لیے میڈیکل کالج لے جایا گیا۔

یوگی حکومت کے کابینہ وزیر اور نشاد پارٹی کے صدر ڈاکٹر سنجے نشاد نے مختار انصاری کے خاندان کو متاثرہ خاندان بتایا ہے۔ اس کے پیچھے سنجے نشاد نے دلیل بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مختار انصاری کے خاندان کے بارے میں جس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں وہ درست نہیں۔

اسد الدین اویسی نے گزشتہ روز ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔ اویسی اپنی تقریر میں کہتے ہیں ’’تم کیا مار دوگے؟ اگر مارنا ہے تو مارو، اگر میرا وقت نہیں ہے تو میں نہیں مروں گا اور اگر وقت ہے تو میں مر جاؤں گا۔

یاد رہے کہ مختار انصاری کو 28 مارچ کو باندہ جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے میڈیکل کالج میں مردہ قرار دیا گیا تھا۔ مختار کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کو زہر دے کر قتل کیا گیا ہے۔ مرنے سے پہلے مختار انصاری نے خود عدالت میں اپنی جان کی استدعا کی تھی۔

غازی پور سے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری نے مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کی رہائی سے متعلق کہا کہ وہ اب انہیں مستقل ضمانت دلوانے کی کوشش کریں گے۔ پہلے پیرول پر عباس انصاری کو باہرلانے کی کوشش کی جارہی تھی۔

یکم اپریل کو اویسی نے مختار انصاری کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے یہ جانکاری سوشل میڈیا ایکس پر دی۔جس میں  انہوں نے لکھا'غازی پور میں مرحوم مختار انصاری کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ کو تسلی دی۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم ان کے اہل خانہ، حامیوں اور چاہنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔