Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے خواتین ریزرویشن بل پرکہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش پارلیمنٹ میں ناکام ہوگئی۔ لوک سبھا میں جو ہوا وہ آئین، ملک اور اپوزیشن اتحاد کی جیت تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سازش ناکام ہوگئی ہے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

لوک سبھا میں ووٹنگ کے بعد مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اعلان کیا کہ اب دیگر دو بلوں پر ایوان میں آگے بحث نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا اسپیکرنے ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔

لوک سبھا میں ناری شکتی وندن سمیت تین بلوں پر اپنی بات رکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ میں 20 سال میں جو حاصل نہیں کرسکا وہ میری بہن نے پانچ سال میں حاصل کرلیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل خواتین کے لئے نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ اوبی سی اور دلتوں کو ہندو کہا جاتا ہے، لیکن انہیں حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ہری ونش نارائن سنگھ ایک بار پھر راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے، گزشتہ ہفتہ ہی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے انہیں راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا تھا۔ یہ سیٹ سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے ریٹائرہونے کے بعد خالی ہوئی تھی، جسے بھرنے کے لئے جے ڈی یو لیڈر ہری ونش کو منتخب کیا کیا گیا۔ 69 سالہ ہری ونش کی مدت اب 2032 تک رہے گی۔

ترنمول کانگریس نے کہا کہ اس کے کم ازکم 20 ممبران پارلیمنٹ ووٹنگ کے دوران موجود ہوں گے۔ ہم اس تعداد کو بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن، سدیپ بندوپادھیائے کی طبیعت ناسازہے، ابھیشیک بنرجی ریاست بھرمیں اسٹارپرچارک ہیں اورکچھ اراکین پارلیمنٹ کی اپنے حلقوں میں موجودگی ضروری ہے۔

لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔