Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف جماعتوں کی جانب سے ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں امت شاہ نے کلٹی کے وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن صرف حکومت بدلنے کا نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ہے۔

سمراٹ چودھری کی وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یہ پہلی دہلی یاترا تھی۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران دونوں لیڈروں کے درمیان بہار کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، سرمایہ کاری کے امکانات اور ’’خوشحال بہار‘‘ کے وژن پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ریاست میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے اور مرکزی اسکیموں کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔

مغربی بنگال کے بردھمان ضلع کے کلٹی علاقے میں واقع وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی انتخابی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو ملی۔ ریلی میں شریک افراد نہ صرف امت شاہ کی تقریر سننے پہنچے بلکہ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات اور توقعات کا بھی کھل کر اظہار کیا۔

جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ سے بھی ایک ایسی ہی حوصلہ افزا مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک نوجوان نے معمولی شروعات سے بڑا کاروبار قائم کر لیا۔ ہزاری باغ کے پکرار گاؤں کے رہنے والے دیپک کمار نے سال 2018 میں مدرا یوجنا کے تحت پانچ لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک چھوٹی سی دکان تھی اور وسائل کی کمی کے باعث کاروبار محدود تھا۔ تاہم آج وہ شہر میں کئی کامیاب دکانوں کے مالک بن چکے ہیں۔

لوک سبھا میں اس آئینی ترمیمی بل کے پاس نہ ہو پانے کے بعد کانگریس نے اب جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ملک گیر سطح پر اس مسئلے کو عوام تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل کو ملک کے 29 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنس کرے گی، جس میں پارٹی کے سرکردہ رہنما عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے عین بیچ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا ہے جب انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) نے اچانک ریاست میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹی ایم سی کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو بھی خاصا گرم کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں قومی شاہراہوں کے اطراف قائم تمام غیر قانونی تجاوزات، بشمول ڈھابے، ہوٹل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے غیر مجاز تعمیرات یا کاروباری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز جھارگرام میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں ”نہ پڑھائی ہے، نہ کمائی ہے اور نہ دوائی ہے“، اس لیے اب ٹی ایم سی کو جانا ہی ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔

سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے مرکزی حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ ڈی لمیٹیشن کو انہوں نے خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ جوڑ دیا، جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔