Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ، اکھلیش یادو کا حکومت پر حملہ، اپوزیشن نے اٹھائے کئی سوالات، جانئے کس نے کیا کہا؟
اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔
Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر وزیر اعظم مودی کی اپوزیشن سے اپیل، کہا- مخالفت سے میرا فائدہ، حمایت پر آپ کو دوں گا کریڈٹ
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔
Women’s Reservation Bill 2026: پارلیمنٹ میں مسلم خواتین کی ریزرویشن پر چھڑگئی جنگ، اکھلیش یادونے کہا، کیا مسلم خواتین آدھی آبادی میں نہیں آتیں؟ امت شاہ نے یہ دیا یہ سخت جواب
حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کے بارے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے لوک سبھا میں کہا، ”ہم آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026، یونین ٹیریٹریز لاز (امیڈمنٹ) بل، 2026، یونین ٹیریٹریزلا (ترمیمی) بل، 2026 کی مخالفت کرتے ہیں، جس میں کوئی دوسری پارٹی نہیں ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کی اتنی بڑی حامی ہے۔“
Welfare Of Minority Women and Children: مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود ساوتری ٹھاکر نے این سی ایم ای آئی کے پروفیسر شاہد اختر کے ساتھ مل کر اقلیتی خواتین و اطفال کی فلاح کا ایجنڈا آگے بڑھانے کا عہد کیا
دہلی میں تعمیری ملاقات: ڈبلیو سی ڈی وزارت کے نچلی سطح کے پروگراموں اور این سی ایم ای آئی کے آئینی مینڈیٹ کے درمیان ہم آہنگی پر غور
PM Modi Nagercoil Roadshow: روڈ شو نہیں، یہ عوام کا سیلاب ہے! ناگرکوئل میں وزیر اعظم مودی کا زبردست پاور شو، اپوزیشن حیران
روڈ شو کے دوران سڑکوں پر لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا، جس میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ راستے بھر لوگوں نے وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا اور جوش و خروش کا اظہار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اجتماع اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
Omar Abdullah News: لوک سبھا کی سیٹیں بڑھانے سے متعلق جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کا بڑا بیان،”اس کا مقصد بی جے پی کو…”
جموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ اگریہ بل صرف اس مقصد کے ساتھ لایا جا رہا ہے کہ اس کا حتمی فائدہ بی جے پی کوہونا چاہئے نہ کہ عام ووٹروں کوتویہ ایک ایسی بات ہے، جس پرہمیں غور کرنا ہوگا۔
Raghav Chadha Security: راگھو چڈھا کو مرکزی حکومت نے دی زیڈ زمرے کی سیکورٹی، پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے واپس لی تھی سیکورٹی
راگھو چڈھا کو حال ہی میں راجیہ سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اورایوان میں بولنے سے روک دیا گیا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے ان کی جگہ اشوک متل کومقرر کیا ہے۔ آج ہی ای ڈی نے اشوک متل کے جالندھ واقع رہائش گاہ اور نجی یونیورسٹی پر چھاپہ ماری کی ہے۔
HM Amit Shah Bengal Rally: بدلے گا بنگال! مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا بڑا اعلان، یو سی سی کے نفاذ اور کثیر شادی پر پابندی کا وعدہ
اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ موجودہ نظام میں کچھ طبقات کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت حاصل ہے، لیکن بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ ان کے مطابق یو سی سی کے نفاذ کے بعد ایک ہی قانون سب شہریوں پر نافذ ہوگا اور کسی بھی طرح کا امتیاز باقی نہیں رہے گا۔
Special Session Of Parliament: پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 اپریل سے، خواتین ریزرویشن بل پر وزیر اعظم مودی کریں گے خطاب، امت شاہ بل پر ہونے والی بحث کا دیں گے جواب
وزیر اعظم مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔
Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل وقت کی ضرورت: وزیر داخلہ امت شاہ، حکومت نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ پر حمایت تیز کر دی
منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔





