Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

وزیر اعظم مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔

منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔

معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی جانب گامزن ہے جہاں مساوات اور انصاف محض نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے جاری انتظار اب ختم ہونے کو ہے اور ریاستی اسمبلیوں سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس مہم کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں پیش کیے گئے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے تئیں عوامی حمایت کا اظہار کرنا اور اس کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ پروگرام کے منتظمین کے مطابق یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک ہے، جس کے ذریعے خواتین کے مقام کو مزید مستحکم کرنے کا پیغام دیا جائے گا۔

امت شاہ نے انتخابی عمل کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی یا دھاندلی پر سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 23 اور 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران اگر کسی نے خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے ایسے عناصر ووٹنگ کے دن گھروں میں ہی رہیں، ورنہ قانون اپنا کام ضرور کرے گا۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ اقلیتی طبقہ اپوزیشن کے لیے محض ووٹ بینک کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لیے وہ ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی طرح کی خوشامد یا تفرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتی بلکہ سب کے ساتھ انصاف اور مساوات کے اصول پر عمل پیرا ہے، جو ملک کو مضبوط بنانے کا واحد راستہ ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔

وزیر اعظم مودی پیر کے روز وگیان بھون میں ”ناری شکتی وندن سمیلن“ سے خطاب کریں گے۔ اس قومی سطح کے پروگرام میں وہ ملک بھر کی خواتین سے براہ راست مکالمہ بھی کریں گے اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل وسیع پیمانے پر انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق وہ پہلے مرحلے کے لیے 500 سے زیادہ ریلیاں اور عوامی جلسے منعقد کرے گی، جن میں مرکزی اور ریاستی سطح کے سرکردہ لیڈر حصہ لیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی 11 بڑی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔