Bharat Express DD Free Dish

Manipur

ریاست میں نسلی تصادم کے دوران پولیس کے اسلحہ خانے اور پولیس کے دیگر اداروں سے 4000 سے زیادہ بندوقیں لوٹ لی گئی تھیں۔

حکومت اس ایپ کے خلاف سخت کارروائی پر غور کر رہی ہے، اور اسے بھارت میں مکمل طور پر بند کرنے کا امکان ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس ایپ کے ڈیولپرز اور اس کے پیچھے موجود نیٹ ورک کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس کے اصل مقاصد اور آپریشنل ڈھانچے کا پتہ لگایا جا سکے۔

قبل ازیں، 21 ایم ایل ایز نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ شمال مشرقی ریاست میں امن اور معمول کو یقینی بنانے کے لیے 'مستحکم حکومت' تشکیل دیں۔ خط پر بی جے پی کے 13، این پی پی-ناگا پیپلز فرنٹ کے تین تین اور اسمبلی کے دو آزاد ارکان کے دستخط تھے۔

گزشتہ سال مرکزی حکومت نے بھارت اور میانمار کے درمیان 1610 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے اور سڑکوں کی تعمیر کو منظوری دی تھی۔ حکومت نے یہ فیصلہ منی پور میں دراندازی کو روکنے کے لیے کیا تھا۔

چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ کے سامنے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے فورنسک رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد بنچ نے لاء افسر سے معاملے کی جانچ سے متعلق ریاستی افسران سے ہدایت لینے کو کہا۔

منی پور کے تھوبل ضلع میں ایک ہجوم نے اتوار کی رات وقف ترمیمی بل کی حمایت میں سوشل میڈیا پوسٹ کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر کے گھر کو آگ لگا دی۔

وزارت داخلہ نے ہفتہ کو نئی دہلی میں میتئی اور کوکی-زو تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ تقریباً دو سال قبل منی پور میں شروع ہونے والے نسلی تنازعہ کو حل کیا جا سکے۔

امت شاہ کے 'آزادانہ نقل و حرکت' کی ہدایت کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کے ساتھ سیکورٹی فورسز کی جھڑپ اور میتی تنظیم فیڈریشن آف سول سوسائٹی کی طرف سے نکالے گئے مارچ کی مخالفت کی۔

منی پور میں صدر راج کے نفاذ کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے آج یعنی ہفتہ کو پہلی میٹنگ بلائی ہے۔ یہ جائزہ میٹنگ صبح 11 بجے نارتھ بلاک ہوم منسٹری میں منعقد ہوگا۔

تشدد مئی 2023 میں منی پور میں کوکی اور میتی کمیونٹی کے درمیان کشیدگی کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ریاست میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ یہی نہیں تشدد کے دوران فسادیوں نے ہزاروں گھروں کو آگ لگا کر تباہ بھی کر دیا۔ ان میں کئی ایم ایل اے، وزرا اور مشہور شخصیات کے گھر بھی شامل ہیں۔