Bharat Express DD Free Dish

Manipur

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کا تشدد اور بے قصور لوگوں کا قتل قابل قبول نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو واضح ہدایات دی ہیں کہ حالات کو جلد قابو میں کیا جائے اور امن و قانون بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے تمام برادریوں سے بات چیت، بھائی چارے اور صبر و تحمل کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔

نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے پہلے منی کے وزیر اعلیٰ وزیر اعظم مودی سے بھی ملے، بین ریاستی نقل و حمل خدمات دوبارہ شروع کرنے سمیت مختلف امور پر ہوئی بات چیت ہوئی۔

نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملے وزیر اعلیٰ، بین ریاستی نقل و حمل خدمات دوبارہ شروع کرنے سمیت مختلف امور پر ہوئی بات چیت

منگل کی علی الصبح 4:27 بجے منی پور کے تامینگ لونگ میں بھی 2.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کا مرکز زمین کے اندر تقریباً 12 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ منگل اور بدھ کی درمیانی رات 12:33 بجے میگھالیہ کے ویسٹ کھاسی ہلز میں 3.1 شدت کا زلزلہ آیا۔

منی پور کے تمینگلونگ ضلع میں اتوار کو تازہ تشدد کے دوران مسلح حملہ آوروں نے دو الگ الگ واقعات میں ایک جوڑے سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا۔ فائرنگ کے دوران ایک چھ سالہ بچہ بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جس کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

منی پور کے وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ معروف گٹارسٹ چونگتھم وکرم کے بے وقت انتقال سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موسیقی اور منی پور کی ثقافتی زندگی میں وکرم سنگھ کی قیمتی خدمات کو ہمیشہ گہرے احترام کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔

ناگا اراکین اسمبلی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر حالیہ پرتشدد واقعات پر تشویش ظاہر کی اور چھ ناگا شہریوں کے مبینہ قتل اور ان کی لاشوں کے ساتھ بربریت کے معاملے میں کوکی-زو برادری کے بعض رہنماؤں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اراکین اسمبلی کا الزام ہے کہ کچھ کوکی-زو رہنماؤں نے مبینہ طور پر ان ہلاکتوں کی ذمہ داری لینے کا عوامی طور پر دعویٰ کیا ہے۔

ناگا تنظیموں نے کہا ہے کہ اس طرح کے حملے علاقے میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ حملے کے ذمہ دار افراد کو جلد گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ناگا اکثریتی ضلع کے بٹیانگ گاؤں میں پیش آیا۔ سکیورٹی فورسز علاقے میں تلاشی اور سکیورٹی آپریشن انجام دے رہی تھیں کہ اسی دوران مسلح دیہی والنٹیروں نے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ گھر کے اندر دو کمسن بچوں کا درد ناک قتل، مظاہروں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں۔ اس سے انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کوئی بھی ہو اس طرح کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔