Bharat Express DD Free Dish

Lalu Prasad Yadav

لالوپرساد یادو کی بیٹی اور رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی نے کہا کہ ہفتہ کے روز انہیں دہلی لے جایا جائے گا۔ رابڑی دیوی اور تیج پرتاپ یادو بھی لالو پرساد یادو کے ساتھ تھے۔ میسا بھارتی کے مطابق لالو پرساد یادوکو 4 سے پانچ گھنٹے تک ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر ترجمان اورلالو پرساد یادو کے قریبی ساتھی مرتنجے تیواری نے جمعرات (16 جولائی 2026) کو پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ سال 2014 سے آر جے ڈی کے میڈیا انچارج اورترجمان کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ ان کا شمار پارٹی میں برہمن طبقے …

آکاش یادو کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائے جانے کے بعد تیج پرتاپ یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ بھی شیئر کی تھی، اگرچہ انہوں نے اس میں آکاش یادو کا نام نہیں لیا تھا۔قانونی نوٹس کی نقل شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ ’’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جس شخص کو اس کے غیر مہذب، توہین آمیز، دھمکی آمیز اور سماج دشمن رویے کے حوالے سے باقاعدہ قانونی نوٹس بھیجا گیا،

جے ڈی یو لیڈر اور پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار کا کہنا ہے کہ 10 سرکلر روڈ (رابڑی ہاوس) میں بڑا راز پوشیدہ ہے۔ زمینوں کے دستاویز کے ساتھ سونا اور روپئے پوشیدہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جے ڈی یو کے اس دعوے کے بعد آرجے ڈی نے پلٹ وار کیا ہے۔

10 سرکولر روڈ واقع سرکاری بنگلہ طویل عرصے سے رابڑی دیوی کے زیر استعمال رہا ہے۔ نئی حکومت نے یہ رہائش گاہ ریاستی وزیر نند کشور رام کے نام الاٹ کر دی ہے۔

روہنی آچاریہ نے کہا کہ لالو یادو کے ذریعے جیل بھیجے جانے کی بچکانہ بات کرتے ہوئے، پروپگنڈے کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے والے سمرت چودھری یہ بھول گئے کہ خود بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ قانونی اور عدالتی عمل ضابطے اور قانون کے مطابق چلتا ہے، کسی کے اشارے پر نہیں۔

اس سے قبل راؤز ایونیو کورٹ کی خصوصی عدالت نے جنوری 2026 میں لالو یادو سمیت دیگر ملزمان کے خلاف سخت ریمارکس دیتے ہوئے الزامات طے کیے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ زمین کے بدلے نوکری گھوٹالے میں لالو یادو،

ای ڈی کے مطابق، جب لالو پرساد یادو ریلوے وزیر تھے، تب ‘گروپ ڈی’ کی نوکریوں کے بدلے لوگوں سے زمینیں لی گئیں۔ ان زمینوں کو اکثر براہ راست لالو خاندان کے بجائے ’اے کے انفوسسٹمز‘ کمپنی کے نام پر لیا گیا، جو امت کاتیال کی ملکیت ہے اور انہیں لالو اور تیجسوی یادو کا قریبی ساتھی مانا جاتا ہے۔

دیودھر چارہ گھوٹالہ 1990 سے 1994 کے درمیان پیش آیا، جس میں دیودھر چارہ گھوٹالہ سے تقریباً 89 لاکھ روپے کی مبینہ خرد برد کا الزام ہے۔ اس کیس میں لالو پرساد یادو کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔

زمین کے بدلے نوکری گھوٹالہ معاملے میں عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے معاملے میں ریلوے کا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کیس میں بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی ٹرائل کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔