بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار۔ (فائل فوٹو)
بہار اسمبلی میں آج اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کافی جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے نظر آئے۔ جہاں انہوں نے اپوزیشن کی خواتین لیڈروں پر سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو یادو کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے خواتین کو پڑھایا بھی نہیں جاتا تھا، خواتین کی تعلیم سے متعلق تمام کام ان کی (نتیش) حکومت کے دوران ہوا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اجلاس کے آغاز کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار سب سے پہلے اسمبلی پہنچے۔ نتیش کے آتے ہی اپوزیشن پارٹی کے ایم ایل اے نے ہنگامہ کرنا شروع کردیا۔ ہنگامہ دیکھ کر نتیش کا غصہ بڑھ گیا اور وہ یہاں سے نکل کر قانون ساز کونسل چلے گئے۔ نتیش کو قانون ساز کونسل میں بھی اپوزیشن کے ہنگامے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں اپوزیشن نے محکمہ تعلیم سے متعلق سوال پوچھا، جس کے بعد نتیش کمارنے کھڑے ہو کر اپوزیشن پر جم کر تنقید کی۔
واضح رہے کہ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کی تین خواتین ارکان ہیں ،جنہیں خطاب کرتے ہوئے نتیش کمارنے کہا کہ آپ لوگ کچھ نہیں جانتیں۔ ان لوگوں نے بنایا ہے، اسی لیے آپ کہہ رہے ہیں۔ آر جے ڈی حکومت نے تعلیم کے لیے کیا کیا؟ پچھلی حکومت نے خواتین کے لیے کیا کیا؟ خواتین پہلے کہاں پڑھتی تھیں؟ کچھ خواتین پرائمری میں پڑھتی تھیں، اس کے بعد خواتین نہیں پڑھتیں۔رابڑی دیوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ جب ان کے شوہر ٹوٹ گئے تو رابڑی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ انہوں نے اب تک خواتین کے لیے کیا کیا ہے؟ ہماری حکومت نے تمام کام خواتین کے لیے کیے ہیں۔
نتیش کمار نے وزیر تعلیم سے سختی سے جواب دینے کو کہا۔ اس پیش رفت کے درمیان ایوان میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ارکان قانون ساز کونسل کے درمیان بھی گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی۔واضح رہے کہ بابا باگیشور کو لے کر بہار اسمبلی میں بھی ہنگامہ ہوا۔ آر جے ڈی ایم ایل اے بھائی ویریندر نے بہار میں بابا باگیشور کے پروگرام پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی باباوں کو الیکشن کے لیے بہار بھیج رہے ہیں۔ بہار میں اس بار کوئی اثر نہیں ہوگا۔ بھائی ویریندر نے کہا کہ اس بار صرف تیجسوی کی ہی حکومت بنے گی۔ آپ کو بتا دیں، بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آج چھٹا دن ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
