Bharat Express DD Free Dish

CM Nitish Kumar

جے ڈی یو کے وزیر زماں خان کا کہنا ہے کہ تمام تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں۔ منگل کے روزکابینہ کی میٹنگ ہوگی۔ جو کچھ بھی ہوگا، نتیش کمار کے فیصلے پرہوگا۔ انہوں نے حلف برداری کی تاریخ سے متعلق بھی بڑی بات کہی ہے۔

بہارحکومت میں وزیر وجے کمار چودھری نے کہا کہ وزیراعلیٰ وہی ہوگا، جسے این ڈی اے کا لیڈر منتخب کیا جائے گا۔ بی جے پی کا اس میں اہم  رول ہوگا۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار نے گزشتہ جمعہ کے روز راجیہ سبھا کے رکن کے طورپر حلف لیا ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے استعفیٰ کی تاریخ کیا ہوگی، اس پرہرکسی کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنے پیغام میں نتیش کمار کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہار کو ”جنگل راج“ سے نکال کر ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کا غیر معمولی کام انجام دیا ہے۔ ان کے مطابق نتیش کمار کی قیادت میں ریاست میں گڈ گورننس اور ترقیاتی اقدامات کو فروغ ملا، جس سے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں۔

بہارکے موجودہ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے آج راجیہ سبھا رکن کے طورپرحلف لے لیا ہے۔ اس سے پہلے دہلی میں نتیش کمارنے خود یہ اعلان کردیا کہ اب وہ بہار کو چھوڑ رہے ہیں اور دہلی میں ہی رہیں گے۔ حالانکہ حلف لینے کے بعد آج وہ پٹنہ واپس لوٹ گئے ہیں۔

صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے ہری ونش نارائن سنگھ کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا ہے۔ یہ ان کی تیسری مدت ہوگی، لیکن اس باروہ صدرکے ذریعہ نامزد رکن کے طورپرایوان میں داخل ہو رہے ہیں۔

بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے کہا کہ کل میں راجیہ سبھا رکن کا حلف لوں گے۔ بہت وقت تک وہاں (بہار میں) کام کیا۔ بیٹے نشانت کمار سے متعلق کہا کہ ان کے بارے میں ہمارے لیڈر بتائیں گے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی واقعے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہر متوفی کے اہل خانہ کو 6 لاکھ روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔ اس میں چار لاکھ روپے آفات انتظامیہ محکمہ اور دو لاکھ روپے وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے فراہم کیے جائیں گے۔

آرجے ڈی کے ایم ایل سی سنیل کمار سنگھ نے فیس بک پر ایک پوسٹ کیا ہے، جس سے بہارکی سیاست میں ہنگامہ ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے نتیش کمارکے ایم ایل سی عہدے سے استعفیٰ نامہ پر کئے گئے دستخط کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ آئیے آپ کوپوری تفصیل بتاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے بھیڑ کنٹرول کے لیے کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا تھا۔ ہر منگل یہاں یاتریوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی پی او اور ضلع کے دیگر سینئر اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائی شروع کی گئی۔