جے ڈی یو کی ڈیمیج کنٹرول کی کوشش پر بھی پانی پھر گیا۔
وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے بعد اپوزیشن اورمسلم تنظیموں کے ذریعہ مرکزی حکومت پرحملہ جاری ہے اوربڑی تعداد میں مسلمان اس کے خلاف سڑک پراترگئے ہیں۔ اس درمیان ہفتہ کے روزپٹنہ میں جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) کے مسلم لیڈران نے ڈیمیج کنٹرول کرنے کے لئے ایک پریس کانفرنس بلائی۔ یہ پریس کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی، جب پارٹی کے اندراس بل سے متعلق اختلاف اوراحتجاج کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ پریس کانفرنس میں وہ تین لیڈران (ایم ایل سی غلام غوث، شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین افضل عباس اورسابق راجیہ سبھا رکن اشفاق کریم) بھی شامل ہوئے، جوگزشتہ کچھ دنوں سے بل کی مخالفت کررہے تھے۔ مگرجیسے ہی میڈیا نے ان لیڈران سے سوال پوچھنے کی کوشش کی، پریس کانفرنس کوختم کردیا گیا۔ صرف دولیڈران نے ہی اپنی بات رکھی، باقی کسی بھی لیڈرکو بات رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ بلکہ زیادہ ترمسلم لیڈران کو دکھانے کے لئے اسٹیج پربٹھایا گیا تھا۔
جے ڈی یو کی پریس کانفرنس میں کیا ہوا؟
شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین افضل عباس، جے ڈی یو اقلیتی مورچہ کے صدراشرف انصاری، ایم ایل سی غلام رسول بلیاوی، سابق راجیہ سبھا رکن اشفاق کریم، سنی وقف بورڈ کی چیئرمین انجم آرا، کہکشاں پروین اورسلیم پرویزسمیت پارٹی کے ایک درجن سے زیادہ مسلم لیڈران اس پریس کانفرنس میں موجود رہے۔ انجم آرا نے دعویٰ کیا کہ جے ڈی یونے وقف ترمیمی بل سے متعلق جوپانچ مشورے پارلیمنٹ کی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں دیئے تھے، انہیں مرکزی حکومت نے قبول کرلیا ہے۔ انجم آرا نے کہا کہ جے ڈی یو نے پانچ مشورے یا شرائط رکھی تھیں، جنہیں وقف ترمیمی بل میں مںظور کرلیا گیا۔ پہلا مشورہ تھا کہ زمین ریاست کا معاملہ ہے، اس لئے قوانین میں بھی یہ ترجیحات برقراررہنی چاہئے۔ دوسرا۔ یہ قانون ممکنہ طورپرموثرہونا چاہئے نہ کہ سابقہ طور پر۔ تیسرا۔ اگرکسی رجسٹرڈ وقف جائیداد پر کوئی مذہبی ادارہ قائم ہے تو اس سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ چوتھا– وقف جائیداد سے متعلق تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ضلع مجسٹریٹ سے اوپر کے افسرکو مجاز کیا جائے۔ پانچواں وقف بورڈ کی جائیداد کی تفصیل کو ڈیجیٹل پورٹل پر رجسٹر کرنے کے لئے بل میں دی گئی 6 ماہ کی مدت کو بڑھائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان مشوروں کو قبول کئے جانے کے بعد ہی ہم وقف ترمیمی بل پر راضی ہوئے۔
کیا ہے پورا تنازعہ؟
حال ہی میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وقف ترمیمی بل منظورہوا، جس میں این ڈی اے کی اتحادی جے ڈی یو نے بھی حمایت دی، لیکن پارٹی کے اندر کئی مسلم لیڈران نے اس پر ناراضگی ظاہرکی اوراستعفیٰ تک کی خبریں سامنے آئیں۔ اسے لے کرپارٹی ہائی کمان نے ڈیمیج کنٹرول کی کوشش کے تحت ہفتہ کے روزیہ پریس کانفرنس منعقد کرائی گئی۔ لیکن معاملہ مزید خراب ہوگیا اورآناً فاناً میں پریس کانفرنس کو ختم کردیا گیا اورتمام لیڈران پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ اب اس طرح سے جے ڈی یو کی ڈیمیج کنٹرول کی کوشش سے فضیحت ہی ہوگئی ہے۔
اپوزیشن نے کی تنقید
آرجے ڈی نے اس پوری قواعد پر طنز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جے ڈی یو نے اندرونی اختلاف چھپانے اور ڈیمیج کنٹرول کے لئے زبردستی پریس کانفرنس کروائی۔ احتجاج اور مخالفت کرنے والے لیڈران کواسٹیج پرصرف دکھاوے کے لئے بٹھایا گیا تھا۔ اس پر پلٹ وار کرتے ہوئے جے ڈی یو ترجمان راجیو رنجن نے کہا کہ پارٹی پوری طرح جمہوری ہے اورکوئی بھی لیڈرزبردستی نہیں بیٹھایا گیا۔ جب بل سے متعلق غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں تو یہ ضروری ہے کہ صحیح جانکاری عوام تک پہنچے۔ ایم ایل سی خالد انورنے کہا کہ سبھی لیڈران وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں متحد ہیں اور پارٹی ترقی پسندانہ سوچ کے ساتھ کام کررہی ہے۔ جے ڈی یو ایک سیکولر، لبرل اورجمہوری پارٹی ہے اوراس کے تمام لیڈران نتیش کمارکے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ کوئی مسلم لیڈرپارٹی نہیں چھوڑے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
