Bharat Express

Jitan Ram Manjhi

لوک سبھا الیکشن کے لئے بہارمیں پیرکو این ڈی اے میں سیٹ شیئرنگ کا اعلان ہوا۔ بی جے پی  کو  17 سیٹیں ملی ہیں جبکہ   40 لوک سبھا سیٹوں والے بہارمیں  سی ایم  نتیش کمارکی پارٹی جے ڈی یو 16 سیٹوں پرالیکشن لڑے گی۔

طویل انتظار کے بعد بہارمیں این ڈی اے کے اتحادیوں کے درمیان لوک سبھا الیکشن سے متعلق سیٹ شیئرنگ ہوگئی ہے، لیکن اب ناراضگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک طرف پشوپتی پارس سیٹ نہیں ملنے سے ناراض ہیں تو دوسری طرف اوپیندرکشواہا کی بھی ناراضگی سامنے آئی ہے۔

بہارمیں اکثریت حاصل کرنے کے بعد لوک سبھا کے الیکشن کی تیاریاں تیز ہوچکی ہیں۔ بی جے پی اس بار 20 لوک سبھا سیٹوں پرالیکشن لڑے گی۔ وہیں جے ڈی یو کو 12 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑے گا۔

بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے کہا کہ ’’جمہوریت کا احترام کیا جائے گا، جمہوریت کی حفاظت کی جائے گی اور جمہوریت کو داغدار کرنے والوں کو شرمندہ کیا جائے گا۔‘‘

بہار اسمبلی کے اسپیکر اودھ بہاری چودھری نے بدھ کو اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ 12 فروری کو بجٹ اجلاس شروع ہونے سے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے۔

آئندہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی-جے ڈی یو بہارمیں برابر برابر سیٹوں پرمیدان میں اترسکتی ہیں۔ 6 سیٹوں کو چراغ پاسوان، پشوپتی پارس، اوپیندر کشواہا اور جیتن رام مانجھی میں تقسیم کی جائے گی۔

یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم پر بحث جاری ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آر ایس ایس  نے بہار میں جے ڈی یو کو کم سیٹیں دینے کے لیے بھی مداخلت کی ہے۔ سنگھ نے صاف کہہ دیا ہے کہ جے ڈی یو کو بہار میں 11 سے 12 سیٹیں دی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب چراغ پاسوان بھی جھکنے کو تیار نہیں۔

جیتن رام مانجھی نے اس کو ایشو بنا کر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ وزیر سنتوش سمن کو ایچ اے ایم کوٹہ سے ایس سی-ایس ٹی بہبود کا محکمہ ملنے پر مانجھی نے گیا میں ایک کھلے فورم سے کہا، ''مجھے بھی وہی محکمہ ملا جب میں وزیر تھا اور میرے بیٹے سنتوش کو بھی ایس سی-ایس ٹی بہبود کا ہی محکمہ ملا۔

بہار اسمبلی میں 243 سیٹیں ہیں۔ اکثریت کی تعداد 122 ہے۔ این ڈی اے حکومت نے 128 کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر جیتن رام مانجھی کے  چار ایم ایل اے کو  ہٹادیں، تب بھی این ڈی اے کی تعداد 124 رہے گی۔

لالو پرساد یادو کی پارٹی آر جے ڈی نے جیتن رام مانجھی کو ریاست کا وزیراعلیٰ بنانے کی پیشکش کی ہے۔ مانجھی ہندوستانی عوام مورچہ کے لیڈر ہیں اور ان کی پارٹی کے اسمبلی میں چار ایم ایل اے ہیں