مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی کی طرف سے افطار پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔
بہارمیں انتخابی سال کے پیش نظرسیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور اس دوران افطارپارٹیاں سیاسی راستوں کو ہموار کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی ہیں۔ آج ہندوستانی عوام مورچہ (ایچ اے ایم) کے سربراہ اورمرکزی وزیرجیتن رام مانجھی نے پٹنہ میں افطار پارٹی کا انعقاد کیا، جس میں بہارکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور گورنرعارف محمد خان سمیت کئی دیگراہم لیڈران اور وزرا شامل ہوئے۔
جیتن رام مانجھی کے ذریعہ منعقدہ افطارپارٹی سیاسی نظریے سے بہت اہم مانی جا رہی ہے، کیونکہ یہ بہار کے انتخابی سال سے متعلق ہے۔ اس افطار پارٹی میں این ڈی اے کے کئی بڑے لیڈران شریک ہوئے اوریہ دکھاتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی پوزیشن کومضبوط کرنے کے لئے اس طرح کے انعقاد کا سہارا لے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کا اس افطار پارٹی میں حصہ لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مسلم ووٹ بینک کواپنے حق میں لانے کے لئے مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔
مسلم ووٹروں پرخاص توجہ
افطار پارٹیوں کا انعقاد خاص طورسے مسلم طبقے کے ووٹوں کواپنے حق میں لانے کے لئے اورانہیں متوجہ کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے، جو بہار کے الیکشن میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نتیش کماراورمرکزی وزیرچراغ پاسوان جیسے لیڈران نے بھی اس ماہ میں افطار پارٹیاں منعقد کی تھیں تاکہ مسلم طبقے تک اپنی پہنچ بنائی جاسکے۔ جیتن رام مانجھی کی افطارپارٹی بھی اس پس منظرمیں کافی اہم مانی جا رہی ہے۔
سیاسی اتحاد کا امتحان
جیسے جیسے الیکشن قریب آرہا ہے، بہار میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان سیاسی حالات بدلتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ افطار پارٹیاں اب صرف مذہبی انعقاد نہیں رہ گئی ہیں بلکہ یہ لیڈران کے لئے ایک موقع بن گئی ہیں، جہاں وہ متحد ہوکراپنی سیاسی طاقت کوظاہرکرسکتے ہیں۔ یہ انعقاد نہ صرف کمیونٹی کے تئیں اتحاد کی علامت ہیں بلکہ آئندہ انتخابات کے لئے اسٹریٹجک مواقع بھی ہیں۔ ان افطارپارٹیوں کے ذریعہ لیڈران نہ صرف کمیونٹی میں اپنی موجودگی کا احساس دلارہے ہیں بلکہ آئندہ انتخابات میں اپنی کامیابی کویقینی بنانے کے لئے ووٹ بینک پربھی اپنی گرفت مضبوط کررہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

