Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

سپریم کورٹ نے 8 اگست کو جموں وکشمیرکی مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست کی سماعت کرنے پر رضا مندی ظاہرکی ہے۔ یہ معاملہ ملک کے چیف جسٹس بی آرگوئی کے سامنے تھا۔ جسٹس گوئی نے واضح طورپرکہا کہ اس معاملے کی سماعت 8 اگست کوہوگی۔

آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے 6 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس پر سیاسی ہنگامہ آرائی تیزہوگئی ہے۔ التجا مفتی نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے 6 سال بعد بھی ہمیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ہم سے ہمارا آئین، جھنڈا اوربولنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ یہاں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

5 اگست کوجموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 اور35 اے کوہٹائے گئے 6 سال ہوجائیں گے، جس کے بارے میں فاروق عبداللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیرکوریاست کا درجہ کب واپس ملے گا؟ انہوں نے (بی جے پی) نے پچھلے 6 سالوں میں جموں و کشمیرمیں اصلاحات کے نام پرکیا کیا ہے؟

یہ میٹنگ آرٹیکل 370 کی منسوخی اور سابقہ جموں و کشمیر ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کی چھٹی سالگرہ سے ایک دن پہلے ہوئی ہے۔

28 جولائی کو سری نگر کے ہروان علاقے میں داچیگام نیشنل پارک میں ’آپریشن مہادیو‘ میں تین پاکستانی دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ان دہشت گردوں میں لشکر طیبہ کے کمانڈر سلیمان شاہ اور اس کے دو ساتھی ابو حمزہ اور جبران بھائی شامل تھے۔ یہ تینوں دہشت گرد 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے حملے میں ملوث تھے، جس میں 26 بے گناہ لوگ مارے گئے تھے۔

ایل جی سنہا نے مصنفین پر زور دیا کہ وہ تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے بارے میں سوچیں تاکہ ان حقائق کو ’’درست‘‘ کیا جا سکے جو ’’ماضی میں مسخ کر کے‘‘ پیش کی گئی ہیں۔

جموں و کشمیر میں فوج کے جوان دہشت گردوں کے لیے موت بن چکے ہیں۔ وادی میں سرچ آپریشن، شدید فائرنگ اور دہشت گردوں کو مارا جا رہا ہے۔

کشمیر کی معیشت میں سیاحت کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جو لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ حکومت سیاحوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اگرچہ سیاحوں کی تعداد ابھی حملے سے پہلے کی سطح سے کم ہے، لیکن آہستہ آہستہ اضافہ حوصلہ افزا ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافیوں سے بات چیت میں اعتراف کیا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ریاست میں سیاحت کو بڑا دھچکا لگا، اس حملے میں گجرات، مہاراشٹرا اور کرناٹک کے 26 سیاح مارے گئے، جس کی وجہ سے وادی میں خوف کا ماحول ہے۔

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ 2019 میں جو کہا گیا تھا اورآج کی حقیقت میں فرق ہے۔ پہلگام حملے سے متعلق انہوں نے کہا کہ کئی چیزیں ہیں، جس پرمرکزی حکومت کوجواب دینا ہوگا۔