Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

ہندوستان اپنی ناکافی طور پر محفوظ طویل ساحلی پٹی کے علاوہ مغرب، شمال اور شمال مشرق میں اپنی غیر محفوظ سرحدوں کی وجہ سے دہشت گردوں کے حملوں کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔ ہندوستان میں داخل ہونے والے یا رہنے والے دہشت گردوں اور باغیوں کو بہت سے ذرائع سے خاص طور پر بیرون ملک واقع ایجنسیوں سے زبردست مادی امداد اور فنڈز ملتے رہتے ہیں۔

اس واقعہ کی وجہ سے گاؤں کا باقی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور زمین و املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن بعد میں چار افراد کے ہلاک اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

جموں وکشمیر کے کشتواڑ میں جمعرات دوپہر 12:30 بجے اچانک سے بادل پھٹ گیا۔ مچیل ماتا مندر کے یاترا مارگ پر یہ مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا۔ جس میں دو سی آئی ایس ایف جوانوں سمیت 46 افراد کی موت ہوگئی۔ وہیں 200 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔

ایس ڈی آر ایف کے اہلکار نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ کشتواڑ واقعہ میں 15 سے زیادہ افراد کی موت ہو گئی ہے، جب کہ 50 سے زیادہ زخمی ہیں۔ کچھ زخمیوں کو کشتواڑ کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

جموں کے کشتواڑکے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے سے زبردست نقصان کی اطلاع ہے۔ کشتواڑکے ڈپٹی کمشنرپنکج شرما نے بتایا کہ کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں اچانک سیلاب آگیا ہے۔

بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس عرض داشت کا بھی نوٹس لیا کہ ’’اس حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں کئی تحفظات ہیں۔‘‘

SIA کی ٹیم صبح سویرے سری نگر کے آٹھ مختلف مقامات پر پہنچی۔ پولیس اور CRPF کے جوان بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ اس اچانک کارروائی سے علاقے میں کھلبلی مچ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے سرلا بھٹ قتل کیس کے سلسلے میں اہم سراغ حاصل کرنے کے لیے مارے جا رہے ہیں۔ سرلا بھٹ کا قتل 1990 میں ہوا تھا، اور یہ کیس آج بھی معمہ بنا ہوا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈارکا کہنا ہے کہ جموں و کشمیرکے عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا ہے اوراپنے نمائندوں کو منتخب کیا ہے۔ منتخب نمائندے ہی مقامی لوگوں سے متعلق معاملات کوآگے بڑھائیں گے، ایسے میں نامزد اراکین کیا کریں گے۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ وزارت داخلہ کا جواب ہے، جسے ہائی کورٹ نے مرکزسے طلب کیا ہے۔

جمعہ کی دیر رات دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں فوج کے چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں سے دو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ دونوں فوجیوں کی شناخت 19 راشٹریہ رائفلز (RR) کے کانسٹیبل ہرمندر سنگھ اور لانس نائک پریت پال سنگھ کے طور پر کی گئی ہے۔

یہ آپریشن یکم اگست کو اُس وقت شروع ہوا تھا جب سکیورٹی فورسز کو دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ اب تک اس مڈبھیڑ میں دو دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔