Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

بہار اسمبلی انتخابات کی پہلی لسٹ جاری کرنے کے فوراً بعد، بی جے پی نے اب ملک کے چار ریاستوں (جموں و کشمیر، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور تلنگانہ) میں ہونے والے اسمبلی ضمنی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس لسٹ میں پانچ سیٹوں کے لیے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے جس میں جموں و کشمیر کی بڈگام، نگروٹا، جھارکھنڈ کی گھاٹ شلا، اڈیشہ کی نواپاڈا اور تلنگانہ کی جوبلی ہلز شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ان تینوں ضمنی انتخابات کا انتخابی عمل "قانون نمائندگی عوام 1951" کے تحت ہوگا۔ تمام انتخابات قانونی ضابطوں اور قواعد و ضوابط کے مطابق منصفانہ، شفاف اور وقت پر مکمل کیے جائیں گے۔

جموں و کشمیر کی چار راجیہ سبھا نشستوں پر 24 اکتوبر کو انتخابات ہوں گے۔ بی جے پی اور نیشنل کانفرنس-کانگریس اتحاد کے درمیان ان نشستوں کو لے کر مقابلہ کافی سخت ہوتا جا رہا ہے۔جانیں مکمل سیاسی صورتحال

افغان وزیر خارجہ عامر خان متقی نے 10 اکتوبر کو بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے ملاقات کی جس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کی مذمت کی۔

مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر مجوزہ 1,856 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کو تزویراتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، جو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بحال ہوا ہے۔

مولانا ارشد مدنی کے حکم پرآج جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب کی صوبائی یونٹ کے مختلف اضلاع سے جمعیۃ علماء کے کارکنان نے پنجاب میں آئے سیلاب اوراس سے ہوئے نقصانات والے علاقوں میں سب سے زیادہ جانی اورمالی نقصان ہونے والے علاقہ کا دورہ کیا۔

جموں وکشمیرکے ادھم پورکے اونچائی والے علاقے میں سیکورٹی فورسزاوردہشت گردوں کے درمیان تصادم میں ایک فوجی شہید ہوگیا۔ یہ فوجی جمعہ کی شام شروع ہونے والے تلاشی آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا اوربعد میں اسپتال میں دم توڑگیا۔

ڈرائیوروں نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہ کو فوری طور پر درست اور بحال کیا جائے۔ کچھ ڈرائیوروں نے پولیس پر سنگین الزامات بھی لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار پیسے لے کر کچھ گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت دے رہے ہیں جبکہ باقی گاڑیوں کو طویل وقت تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

28 جولائی سے "آپریشن مہادیو" (Operation Mahadev) شروع کیا گیا، جس میں لشکرِ طیبہ سے وابستہ تین دہشت گرد مارے گئے۔

شبیر شاہ کو 4 جون 2019 کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر حزب المجاہدین کے سید صلاح الدین، لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور افتخار حیدر رانا جیسے پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں سے رابطے کا بھی الزام ہے۔ اے آئی اے کا دعویٰ ہے کہ شاہ نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے اور جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کیا۔