Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

جموں وکشمیرکے ادھم پورکے اونچائی والے علاقے میں سیکورٹی فورسزاوردہشت گردوں کے درمیان تصادم میں ایک فوجی شہید ہوگیا۔ یہ فوجی جمعہ کی شام شروع ہونے والے تلاشی آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا اوربعد میں اسپتال میں دم توڑگیا۔

ڈرائیوروں نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہ کو فوری طور پر درست اور بحال کیا جائے۔ کچھ ڈرائیوروں نے پولیس پر سنگین الزامات بھی لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار پیسے لے کر کچھ گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت دے رہے ہیں جبکہ باقی گاڑیوں کو طویل وقت تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

28 جولائی سے "آپریشن مہادیو" (Operation Mahadev) شروع کیا گیا، جس میں لشکرِ طیبہ سے وابستہ تین دہشت گرد مارے گئے۔

شبیر شاہ کو 4 جون 2019 کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر حزب المجاہدین کے سید صلاح الدین، لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور افتخار حیدر رانا جیسے پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں سے رابطے کا بھی الزام ہے۔ اے آئی اے کا دعویٰ ہے کہ شاہ نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے اور جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

جموں و کشمیر میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایک روزہ دورے پر جموں پہنچے، جہاں انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا۔ راج بھون میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، لیکن ان کا بنیادی مقصد سیلاب متاثرین کی خیریت معلوم کرنا اور امدادی و بچاؤ …

مسلسل بارش نے پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کا رابطہ منقطع کر دیا ہے جس کی وجہ سے نقل و حرکت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ کئی اسکولوں کے طلبہ کا امتحانی مرکز تک پہنچنا خطرے سے بھرا ہوسکتا تھا، جس کی وجہ سے بورڈ نے امتحانات ملتوی کرنے کا محتاط فیصلہ کیا۔ طلباء بورڈ کی ویب سائٹ اور آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نظر رکھ سکتے ہیں، جہاں امتحان کی نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر پیشگی اطلاع دینا ممکن نہیں تھا اس لیے یہ حکم یکطرفہ طور پر جاری کیا گیا ہے۔ اس حکم کی خلاف ورزی بھارتی نیائے سنہتا 2023 کی دفعہ 223 کے تحت سخت تعزیری کارروائی کی جائے گی۔

جموں وکشمیر میں طوفانی سیلاب کی تباہی کے درمیان، ریلائنس جیوکا نیٹ ورک فعال رہا، جس نے تباہی سے متاثرہ جموں وکشمیر اورباہر پھنسے ہوئے ہزاروں خاندانوں کو جڑے رہنے میں مدد فراہم کی۔ اس سے لوگوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور انخلاء کے منصوبوں اورحفاظتی اقدامات پرتبادلہ خیال کرنے میں مدد ملی۔

مسلسل چار دنوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کے باعث علاقے کے بڑے حصے میں پانی جمع ہونے کے بعد نچلے علاقوں سے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران، جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں سانحہ پیش آیا، جہاں ویشنو دیوی یاترا کا راستہ لینڈ سلائیڈ کی زد میں آ گیا۔

رہائشی علاقوں میں ندی نالوں کا پانی داخل ہونا، موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کا بند ہونا، اور اسکولوں کا بند ہونا،  عوام کی زندگی کو معطل کر دیتی ہے۔ مگر نہ تو شہری منصوبہ بندی میں کوئی بہتری آتی ہے، نہ ہی انفرااسٹرکچر کو آفات کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔