Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

جموں کے ڈوڈہ میں بادل پھٹنے سے کئی گھر تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد سے راحت بچاؤ کام جاری ہے۔ علاقے میں بھاری بارش ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ جموں کا دورہ کرنے والے ہیں۔

جموں وکشمیر سے ایک انتہائی افسوسناک خبر آئی ہے۔ ایک ابھرتے ہوئے کرکٹر کی سڑک حادثے میں موت ہوگئی ہے۔ فرید حسین جیسے ہی کارکے دروازے سے ٹکرائے، وہ سڑک کنارے گرپڑے۔ انہیں فوراً نزدیکی اسپتال پہنچایا گیا، لیکن کوششوں کے بعد بھی ڈاکٹر انہیں بچا نہیں پائے۔

 پونچھ میں ایل اوسی کے پاس ڈرون دیکھے جانے کے بعد فوج کے جوانوں نے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ یہ سبھی ڈرون اتوار کی رات کو دیکھے گئے ہیں جوکہ کافی اونچائی پر اڑ رہے تھے۔

دوسری جانب جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (JKNC) کے لیڈر اور رکن اسمبلی ریاض احمد خان نے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نیت اور جاری کردہ حکم میں تضاد پایا جاتا ہے۔

ہندوستان اپنی ناکافی طور پر محفوظ طویل ساحلی پٹی کے علاوہ مغرب، شمال اور شمال مشرق میں اپنی غیر محفوظ سرحدوں کی وجہ سے دہشت گردوں کے حملوں کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔ ہندوستان میں داخل ہونے والے یا رہنے والے دہشت گردوں اور باغیوں کو بہت سے ذرائع سے خاص طور پر بیرون ملک واقع ایجنسیوں سے زبردست مادی امداد اور فنڈز ملتے رہتے ہیں۔

اس واقعہ کی وجہ سے گاؤں کا باقی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور زمین و املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن بعد میں چار افراد کے ہلاک اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

جموں وکشمیر کے کشتواڑ میں جمعرات دوپہر 12:30 بجے اچانک سے بادل پھٹ گیا۔ مچیل ماتا مندر کے یاترا مارگ پر یہ مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا۔ جس میں دو سی آئی ایس ایف جوانوں سمیت 46 افراد کی موت ہوگئی۔ وہیں 200 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔

ایس ڈی آر ایف کے اہلکار نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ کشتواڑ واقعہ میں 15 سے زیادہ افراد کی موت ہو گئی ہے، جب کہ 50 سے زیادہ زخمی ہیں۔ کچھ زخمیوں کو کشتواڑ کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

جموں کے کشتواڑکے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے سے زبردست نقصان کی اطلاع ہے۔ کشتواڑکے ڈپٹی کمشنرپنکج شرما نے بتایا کہ کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں اچانک سیلاب آگیا ہے۔

بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس عرض داشت کا بھی نوٹس لیا کہ ’’اس حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں کئی تحفظات ہیں۔‘‘