Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھلے ہی سندھ آج ہندوستان کا حصہ نہیں ہے لیکن اس کی تہذیب اور ثقافت ہمیشہ ہندوستان سے جڑی رہے گی۔ انہوں نے سرحدوں کو تبدیل کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا، تجویز پیش کی کہ سندھ مستقبل میں ہندوستان میں شامل ہوسکتا ہے۔

ترقی یافتہ بھارت 2047 کے وژن کے تحت جموں و کشمیر کی معاشی ترقی کو رفتار دینے کے لیے ریاست کے پہلے چونا-پتھر بلاک کی نیلامی پیر سے جموں میں شروع ہو رہی ہے۔ اس کا اعلان وزارتِ خزانہ و کان نے اتوار کو کیا۔ وزارت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ روزگار کے وسیع امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

رات گئے تقریباً 11 بجکر 20 منٹ پر ہونے والے دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ قابل ذکر ہے کہ سرینگر کا نوگام پولیس اسٹیشن دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس سے منسلک دہشت گرد ماڈیول تحقیقات کے مرکز میں ہے۔

دہلی میں ہوئے دھماکے کی جانچ میں پلوامہ کے باشندہ ڈاکٹرعمرمحمد کا نام سامنے آیا تھا، جس پرجیش محمد کے ساتھ مل کرسازش کرنے کا الزام لگایا تھا۔ دھماکے میں 13 لوگوں کی جان گئی تھی، جس میں عمرخود بھی مارا گیا۔ جانچ ایجنسیوں نے اس سازش کا  انکشاف کرتے ہوئے ڈاکٹرعمر کا گھرمنہدم کردیا ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مجرموں کی حرکتوں کی سزا پوری وادی کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ سوچ ملک کے اتحاد و امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

ڈاکٹر شاہین سعید، کانپور کے جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کے فارماکولوجی ڈپارٹمنٹ میں سات سال تک لیکچرر رہ چکی ہیں۔ سال 2013 میں وہ بغیر اطلاع کے نوکری سے غائب ہو گئیں، جس کے بعد انہیں متعدد نوٹس بھیجے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بالآخر 2021 میں حکومت نے انہیں برطرف کر دیا۔

دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس اس معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عمر کو اس دھماکے کا ممکنہ ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا ہے اور ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا بین الاقوامی نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔ تحقیقات کا دائرہ اب جموں و کشمیر، دہلی اور ہریانہ تک پھیل چکا ہے۔

دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیر 10 نومبر کی شام ہونے والے خوفناک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب اس واقعے کی تفتیش ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب اس معاملے کی ڈور فریدآباد کے دھوج علاقے تک لے گئی ہیں، جہاں الٰفلاح یونیورسٹی پولیس کے رڈار پر ہے۔

پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر عمر النبی مبینہ طور پر اُس کار میں موجود تھا جو دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے کا شکار ہوئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں عمر کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق فرید آباد کے ایک دہشت گرد نیٹ ورک سے بھی ہو سکتا ہے۔

قومی دارالحکومت دہلی سے متصل ہریانہ کے شہر فریدآباد میں دہشت گردی سے وابستہ سرگرمیوں پر پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے مسلسل دوسرے روز بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ کرائم برانچ نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 50 سے 60 کلو دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا ہے، جبکہ دو مشتبہ افراد کو موقع سے گرفتار کیا گیا ہے۔