Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (این سی) کے راجیہ سبھا اراکینِ پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کر کے مرکز کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے ہیں۔ اس موقع پر این سی کے اراکین نے وزیر داخلہ کو ایک تفصیلی یادداشت بھی پیش کی، جس میں جموں و کشمیر سے متعلق آئینی، جمہوری اور انسانی مسائل کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

سفیر ہریش پی نے پاکستان کے نمائندے کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ پہلے بھی بھارت کا حصہ تھے، آج بھی ہیں اور مستقبل میں بھی بھارت ہی کا حصہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس مسئلے کو بار بار عالمی فورمز پر اٹھانا اس کی بھارت مخالف سوچ اور بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت کے ساتھ بڑھتی قربت اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نئی دہلی دورہ نے چین کی دلچسپی کو نئی جہت دے دی ہے۔ بیجنگ نے نہ صرف پوتن کے حالیہ دورۂ بھارت کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا، بلکہ بھارت، چین اور روس کو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کے تین مضبوط اور یکساں رفتار سے آگے بڑھنے والے ستون قرار دیا ہے۔ چین کے مطابق یہ تینوں ممالک عالمی سیاست اور اقتصادیات میں ابھرتی ہوئی طاقتیں ہیں جو عالمی جنوب کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو بھارت کی ثقافتی اور روحانی ورثے کی نمائندگی کرنے والے خصوصی تحائف پیش کیے، جن میں کشمیر کا مشہور زعفران اور بھگوت گیتا کا روسی ترجمہ شامل تھا۔ یہ تحفے نہ صرف بھارت کی فنون، روایت اور روحانیت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھلے ہی سندھ آج ہندوستان کا حصہ نہیں ہے لیکن اس کی تہذیب اور ثقافت ہمیشہ ہندوستان سے جڑی رہے گی۔ انہوں نے سرحدوں کو تبدیل کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا، تجویز پیش کی کہ سندھ مستقبل میں ہندوستان میں شامل ہوسکتا ہے۔

ترقی یافتہ بھارت 2047 کے وژن کے تحت جموں و کشمیر کی معاشی ترقی کو رفتار دینے کے لیے ریاست کے پہلے چونا-پتھر بلاک کی نیلامی پیر سے جموں میں شروع ہو رہی ہے۔ اس کا اعلان وزارتِ خزانہ و کان نے اتوار کو کیا۔ وزارت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ روزگار کے وسیع امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

رات گئے تقریباً 11 بجکر 20 منٹ پر ہونے والے دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ قابل ذکر ہے کہ سرینگر کا نوگام پولیس اسٹیشن دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس سے منسلک دہشت گرد ماڈیول تحقیقات کے مرکز میں ہے۔

دہلی میں ہوئے دھماکے کی جانچ میں پلوامہ کے باشندہ ڈاکٹرعمرمحمد کا نام سامنے آیا تھا، جس پرجیش محمد کے ساتھ مل کرسازش کرنے کا الزام لگایا تھا۔ دھماکے میں 13 لوگوں کی جان گئی تھی، جس میں عمرخود بھی مارا گیا۔ جانچ ایجنسیوں نے اس سازش کا  انکشاف کرتے ہوئے ڈاکٹرعمر کا گھرمنہدم کردیا ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مجرموں کی حرکتوں کی سزا پوری وادی کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ سوچ ملک کے اتحاد و امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

ڈاکٹر شاہین سعید، کانپور کے جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کے فارماکولوجی ڈپارٹمنٹ میں سات سال تک لیکچرر رہ چکی ہیں۔ سال 2013 میں وہ بغیر اطلاع کے نوکری سے غائب ہو گئیں، جس کے بعد انہیں متعدد نوٹس بھیجے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بالآخر 2021 میں حکومت نے انہیں برطرف کر دیا۔